مایا خان کی اپنی بھاری تنخواہ اور اس میں بڑی کٹوتی پر کھل کر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستانی میزبان واداکارہ مایا خان نے ایک حالیہ پوڈ کاسٹ کے دوران اپنی بھاری تنخواہ اور اس میں آنے والی کمی پر کھل کر گفتگو کی۔
مایا خان ایک باصلاحیت پاکستانی میزبان اور اداکارہ ہیں جنہوں نے پی ٹی وی کے ڈراموں ’ایک محبت سو افسانے‘ کے ذریعے شہرت حاصل کی۔
تاہم، انہیں اصل پہچان نجی ٹی وی کے مارننگ شو سے ملی جو بے حد مقبول ہوا جب کہ 2024 میں مایا خان نے ڈرامہ ’مائی ری‘ سے دوبارہ کم بیک کیا۔
مداحوں نے ڈرامہ کبھی میں کبھی تم میں ان کی اداکاری کو بھی خوب سراہا۔، ان کے حالیہ ڈرامہ سیریل ’بڑے بھیا‘ میں ان کے کردار کو بھی خاصی پذیرائی ملی۔
حال ہی میں مایا خان، ایف ایچ ایم کے لیے عدنان فیصل کے پوڈکاسٹ میں شرت کی، جہاں انہوں نے اپنی بھاری تنخواہ اور اس میں آنے والی کمی کے بارے میں کھل کر بات کی۔
مایا خان کا کہنا تھا کہ میں وہی تھی جو ایک مارننگ شو کے لیے 25 لاکھ روپے تنخواہ لیا کرتی تھی جب کہ معروف میزبان اقرار الحسن اکثر تجسس کے طور پر پوچھتے تھے کہ آپ لوگ کتنی تنخواہ لیتے ہیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ پھر میری زندگی میں 2020 وہ وقت آیا جب میں نے 4 لاکھ روپے میں شو کرنے پر رضامندی ظاہر کی، وہ لمحہ ایسا تھا جیسے میں آسمان سے زمین پر آ گری ہوں اور یہی میری حقیقت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ہچکچاہٹ کا شکار تھی، لیکن پھر میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اس رقم میں برکت اور اضافہ عطا فرمائے کیونکہ یہ مجھے اللہ کی طرف سے ملی تھی، وہ 30 کو 30 کروڑ بھی بنا سکتا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مایا خان
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔