اسلام  آباد (عترت جعفری) حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے نئے سٹرکچرل بنچ مارک کے تحت چینی کے سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے جون سے پہلے چینی کی قومی  پالیسی کا اعلان کرے گی اور آئی ایم ایف کے ساتھ اس پالیسی کو شیئر کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف نے چینی کے سیکٹر میں اصلاحات اور چینی کی قومی پالیسی کی تیاری  کو پاکستان کے حکام کے لیے ایک امتحان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ چینی کے سیکٹر میں جزوی یا ٹکڑوں میں کی جانے والی کوششوں سے بچا جائے، چینی کے سیکٹر میں اصلاحات کے لیے آئی ایم ایف نے جو شرائط حکومت پاکستان کو دے رکھی ہیں، ان میں کاشت اور چینی کی پراسیسنگ کے مرحلے پر تمام پابندیوں کو ختم کرنا، لائسنسنگ کی شرائط کو ختم کرنا، تجارت کی آزادانہ اجازت اور چینی کی ویلیو چین کے تمام مراحل میں رسمی اور غیر رسمی طور پر  قیمت کے کنٹرول کو مکمل ختم کرنا شامل ہے۔ بتایا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی ان شرائط پر عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کے متعدد اجلاس ہوئے اور ایک پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جس میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے تمام امور کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس پالیسی کی منظوری اب وفاقی کابینہ دے گی، جس کے بعد شوگر کی نئی قومی پالیسی کا اعلان کر دیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی شرائط کے عین مطابق جو سفارشات تیار کی گئی ہیں ان میں نئی شوگر ملوں کے قیام کے لیے حکومتی اجازت کی شرط کو ختم کرنا، شوگر ملز کو خام چینی کی درآمد کی اجازت دینا، شوگر ایڈوائزری بورڈ کو ختم کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی کی درآمد اور برآمد کے حوالے سے حکومت کے کنٹرول کو ختم کرنا بھی شامل ہوگا جس کے تحت درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان سپلائی اور ڈیمانڈ کے مطابق اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گے۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ چینی کی ڈی ریگولیشن کے باعث مسابقت  سے  چینی کی قیمت میں کمی کا امکان ہو سکتا ہے۔ حکومت کے لیے  قومی پالیسی کو تیار کر کے نافذ کرنا آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ایک سٹرکچرل بنچ مارک ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ایم ایف کے ساتھ چینی کے سیکٹر آئی ایم ایف کو ختم کرنا پالیسی کا چینی کی کے لیے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن