اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سٹیٹ بنک کو ہدایت کی ہے کہ کمرشل بنکوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروبار اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ وہ بدھ کو یہاں اپنی زیر صدارت چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار و چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ زراعت کے شعبے میں جدت کے فروغ کیلئے سروس پرووائیڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر قرض کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ معاون خصوصی ہارون اختر سمیڈا کی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کریں اور چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کریں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایس ایم ایز معیشت اور صنعتی شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو انٹرپرینیورشپ کی تربیت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے بالخصوص ایس ایم ایز اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اجلاس میں نجی شعبے کو گزشتہ برسوں میں کاروبار، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کیلئے فراہم کئے گئے قرض کے اعداد و شمار اور معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافے پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 22-2021ء کی نسبت دسمبر 2025ء میں نجی شعبے کو بنکوں کی جانب سے قرض کی فراہمی میں بہتری آئی اور قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ تین ہزار کی سطح عبور کر گئی اور قرض کا حجم 1.

1 ٹریلین ہو گیا ہے۔ زرعی شعبے میں رواں برس قرض سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد کا تخمینہ 30 لاکھ لگایا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 28 لاکھ رہی۔ کمرشل بنکوں کی جانب سے نئے کاروبار اور جدید مشینری کیلئے قرض کی فراہمی کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، زرعی شعبے کو فراہم کئے گئے قرض میں جدید مشینری اور فصلوں کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبے بھی شامل ہیں۔ سمیڈا چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں کو مالیاتی امور کی تربیت اور آگاہی کیلئے جلد ایک پروگرام کا اجراء کرے گا، پنجاب میں کسانوں کو جدید زرعی آلات ومشینری کی فراہمی کیلئے سروس پرووائیڈرز کو قرض کی فراہمی کے پروگرام کا اجراء کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیت کیلئے سٹیٹ بنک کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی ’’زرخیز۔ای ایپ‘‘ کا اجراء بھی کیا چکا ہے جس سے کسانوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس حوالے سے باقاعدگی سے اجلاس کی صدارت اور نگرانی کریں گے اور جلد اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات خصوصاً زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے۔ برآمد کنندگان کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیز کیا جائے۔ برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوئی کوتاہی قبول نہیں۔ بدھ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار ملکی برآمدات میں اضافے سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بنک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ چاول کی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ برآمد کنندگان کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیز کیا جائے۔ برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوئی کوتاہی قابل قبول نہیں۔ اجلاس کو برآمدات میں اضافے کے حوالے سے حکومتی حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی اور جولائی تا دسمبر 2025ء تک کے تجارتی اعداد و شمار پیش کئے گئے۔ اجلاس کو ہائی ویلیو سیکٹرز انجینئرنگ، ادویات میڈیکل ڈیوائسز اور پراسیسڈ فوڈ کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ دریں اثناء نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آج کوئٹہ جائیں گے جہاں پر وہ ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: برا مدات میں اضافے درمیانے پیمانے کے برا مد کنندگان کو کو قرض کی فراہمی کی فراہمی میں کی فراہمی کے نئے کاروبار کے حوالے سے کی جانب سے حوالے سے ا کسانوں کو اجلاس کو ہدایت کی کے ساتھ شعبے کو

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف