Express News:
2026-07-24@06:47:02 GMT

چھوٹے درمیانے کاروبارکے لیے قرضوں کی فراہمی

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

وزیر اعظم کی چھوٹے درمیانے کاروبار کے لیے قرضوں کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت، اس سرخی کو پڑھتے ہی ذہن اس کی تفصیلات کو پڑھنے کے بجائے 50 اور 60 کی دہائی کی ان شادیوں کی جانب چلا گیا جب پاکستان کے کاروباری خاندان اپنے بیٹوں کی شادی کو صرف خوشی کا موقع نہیں سمجھتے تھے بلکہ دوسرا کارخانہ کہتے تھے۔

بڑے بڑے ہول سیلرز اس کے ہاتھ میں ایک اور دکان کی چابی تھماتے تھے، شادی کے ساتھ نئی مشین آتی نیا یونٹ لگتا یا ایک نئی دکان کھلتی۔

اس طرح ایک شادی سے کارخانے میں بیسیوں روزگار لگتے، دکان کے لیے پانچ چھ ملازم رکھ لیے جاتے، دلہا میاں گھر آنے جانے کے لیے اس وقت اپنی سائیکل ہی استعمال کرتے تھے، لیکن آج شادی کے ساتھ کارخانے نہیں کھلتے، درمیانے درجے کا کاروبار نہیں شروع ہوتا بلکہ بیٹے کو یا داماد کو کروڑوں کی لینڈ کروزر دی جاتی ہے، ایسے میں کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا ہوگا، یہ گاڑی درآمدات تو بڑھاتی ہے لیکن روزگار نہیں۔

اسٹیٹس تو بڑھاتی ہے لیکن مصنوعات کی پیداوار نہیں بڑھاتی اور پاکستان کا اصل معاشی بحران یہی ہے جب سرمایہ گاڑی میں لگ جائے اور مشین تک نہ پہنچے جب شادی کو نمود و نمائش کا ذریعہ بنا دیا جائے اور بھاری رقم لگژری آئٹمزکی خریداری میں لگ جائے توکوئی معاشی پالیسی، آئی ایم ایف کا قرضہ، وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار کے حکام کی عرق ریزی ان کی بنائی ہوئی نئی نئی پالیسیاں سب فیل ہو جاتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ قرض دینے کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔

کیا وہ دن واپس آ سکتے ہیں؟ جب شادی کا مطلب ایک نیا کارخانہ وجود میں آتا ہے، اگر دکان چلانے کا تجربہ ہوگیا ہے تو ایک نئی دکان اس کی منتظر رہتی ہے، ایک نیا کارخانہ جب لگتا ہے تو درجنوں نئی بھرتیاں بھی ہو جاتی ہیں، چوکیدار سے لے کر منیجر تک کی ضرورت ہے کا بورڈ لگا دیا جاتا ہے، پھر قرضے بھی بامعنی ہوں گے اور معیشت کا پہیہ بھی چلے گا اور ملک کی معاشی ترقی بڑھے گی۔ ایک وقت تھا جب معاشی ترقی 7 یا 8 فی صد بھی تھی۔

 گزشتہ دنوں وزیراعظم کی زیر صدارت سمیڈا کے بزنس پلان سے متعلق (SMEDA) اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں وزیر اعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبارکو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے عمل کو تیز کیا جائے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایس ایم ایزکی استعداد بڑھانے کے لیے حالیہ عرصے میں ملک کے چھ شہروں میں تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ چھ شہروں سے پھیلا کر 60 سے 100 شہروں تک کر دی جائے اور قلیل مقدار میں اسٹوڈنٹس کو ترتیب دینے کے ساتھ ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچائی جائے تو سمیڈا کی کچھ کارکردگی نظر آئے گی۔

وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے طلبا و طالبات کو آئی ٹی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے لیکن یہ تعداد انتہائی قلیل ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ تربیت چونکہ حکومتی سطح پر دی جاتی ہے، لہٰذا اس کی تعداد کو بھی کئی گنا سے بھی زیادہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ 

اس اجلاس کے موقع پر آیندہ تین برسوں پر مشتمل جامع روڈ میپ پیش کیا گیا۔ اجلاس میں ایس ایم ای سیکٹر کو مضبوط بنانے، درپیش مسائل کے حل اور پائیدار ترقی کے لیے مختلف تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

پلان کے مطابق زیادہ تر قرضے سود پر مبنی ہوں گے۔ پہلے بھی بارہا تجربہ کیا گیا ہے کہ سود کے تحت لیے گئے قرضے کبھی بھی بار آور ثابت نہیں ہوتے۔ جہاں تک قرضوں کی واپسی کی شرح کی بات ہے تو اس سلسلے میں دیگر ایسے اقدامات، شرائط، ضمانتیں طلب کی جا سکتی ہیں تاکہ دیے گئے قرضوں کی واپسی محفوظ ہو سکے۔

عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ سود پر قرض لے کر اس میں نقصان دکھا دیا جاتا ہے، اس طرح قرضہ معاف کرا لیا جاتا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبارکے لیے چاہے وہ کاٹیج انڈسٹری کی صورت میں ہو یا ایس ایم ای کی دوسری کوئی صورت ہو، اس سلسلے میں بنگلہ دیش سے رہنمائی لی جا سکتی ہے ، جن کا دعویٰ ہے کہ گرامین بینک کے ذریعے دیے گئے 99 فی صد قرضے واپس آ جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ وہ کاروبار جس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہو، ایسے بزنس اداروں اورکاروبارکو جلد ازجلد اور نرم شرائط بلا سود ان کی ضرورت کے مطابق قرضے فراہم کیے جائیں۔

پاکستان میں آج بھی کاروبارکا بہت بڑا حصہ ایس ایم ایز پر مشتمل ہے اور یہ بڑی تعداد میں روزگار فراہم کرتے ہیں اور ان میں سے بہت کم تعداد میں ایسے ہیں جوکہ بینکوں کے قرضوں سے مستفید ہو رہے ہوں اور ان کو جو قرض مل رہا ہے، اس کے حصول کے لیے بھی بعض افراد کا کہنا ہے کہ کئی مشکلات حائل ہوتی ہیں۔

موجودہ پیش کردہ پلان میں ان تمام مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ ایس ایم ایز جوکہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، ان کے لیے واضح اور آسان روڈ میپ کے اجرا سے روزگار، پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قرضوں کی جاتا ہے ایس ایم کیا گیا گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟

گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا

اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔

گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔

یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔

پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی

ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گوگل گوگل پاسپورڈ

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر