شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث ایمسٹرڈیم ایئرپورٹ پر 700 سے زائد پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
یورپ کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہونے والا نیدرلینڈز کا ایمسٹرڈیم اسخیپول ایئرپورٹ شدید برف باری اور تیز ہواؤں کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ خراب موسم نے فضائی نظام کو مفلوج کر کے ہزاروں مسافروں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ حکام نے دن بھر مزید پروازوں کی منسوخی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
???????? Heavy snow hits France: DGAC orders 40% flight cuts at CDG and 25% at Orly until 14:00.
— Fahad Naim (@Fahadnaimb) January 8, 2026
ایمسٹرڈیم اسخیپول ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق بدھ کے روز شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث کم از کم 700 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ ہوائی اڈے پر گزشتہ چند دنوں سے موسم کی خرابی کے باعث پروازوں کا نظام متاثر چلا آ رہا تھا، تاہم تازہ برف باری نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باعث ایک ہزار سے زائد مسافروں کو رات ہوائی اڈے پر ہی گزارنا پڑی۔ مسافروں کی سہولت کے لیے عارضی طور پر کیمپ بیڈز فراہم کیے گئے جبکہ صبح کے وقت ناشتہ بھی مہیا کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:موسمیاتی تبدیلی کا تدارک: برطانیہ میں سمندر سے کاربن نکالنے کا آغاز
حکام کے مطابق رن ویز پر برف جمنے، حدِ نگاہ کم ہونے اور تیز ہواؤں کے باعث ٹیک آف اور لینڈنگ محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے پروازیں منسوخ کی گئیں۔ اسخیپول ایئرپورٹ یورپ کے بڑے ٹرانزٹ مراکز میں شامل ہے، جہاں روزانہ ہزاروں پروازیں اور لاکھوں مسافر سفر کرتے ہیں، اس لیے موسم کی معمولی خرابی بھی وسیع پیمانے پر اثرات مرتب کرتی ہے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہوائی اڈے آنے سے قبل اپنی پرواز کی صورتحال سے متعلق ایئرلائنز سے رابطہ کریں۔ موسمیاتی اداروں کے مطابق نیدرلینڈز کے مختلف حصوں میں سرد ہواؤں اور برف باری کا سلسلہ کچھ وقت مزید جاری رہ سکتا ہے، جس کے باعث فضائی آمدورفت میں خلل برقرار رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔