امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ سال امریکی دفاعی بجٹ میں 50 فیصد اضافہ کرنا چاہتے ہیں، جس کے بعد یہ رقم ایک بہت بڑی سطح یعنی 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی، تاکہ پرآشوب اور خطرناک دور سے نمٹا جا سکے۔

 دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے صدر ٹرمپ امریکی فوج کو، جسے پہلے ہی ریکارڈ سطح کی فنڈنگ حاصل ہے، بارہا استعمال کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

انہوں نے یمنی باغیوں پر حملے، ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے، مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث کشتیوں پر کارروائی، اور وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو اغوا کرنے کے لیے خصوصی فورسز کے ایک آپریشن سمیت متعدد اقدامات کیے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ انہوں نے یہ طے کیا ہے کہ اپنے ملک کی بہتری کے لیے، خصوصاً ان نہایت پُرآشوب اور خطرناک اوقات میں، سال 2027 کے لیے امریکی فوجی بجٹ 1 ٹریلین ڈالر نہیں بلکہ 1.

5 ٹریلین ڈالر ہونا چاہیے۔

???? pic.twitter.com/ZdgIjisiD4

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) January 7, 2026

’اس سے ہمیں وہ ڈریم فوج تعمیر کرنے میں مدد ملے گی جس کے ہم طویل عرصے سے حق دار ہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ہمیں ہر دشمن کے مقابلے میں محفوظ اور پرامن رکھے گی۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ یہ اضافہ ان وسیع ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن کے باعث ممکن ہے جو انہوں نے دوست اور دشمن دونوں ممالک پرعائد کیے ہیں۔

امریکا پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا فوجی اخراجات کرنے والا ملک ہے اور دفاعی بجٹ کو 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانا چین اور روس جیسے حریفوں کے مقابلے میں واشنگٹن کی مالی برتری کو مزید بڑھا دے گا، تاہم اس سے ان ممالک کے ساتھ اسلحہ کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

دفاعی کمپنیوں پر ٹرمپ کی تنقید

امریکی فوجی بجٹ میں اضافے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹو کے اتحادیوں نے گزشتہ سال امریکی صدر کے دباؤ کے تحت 2035 تک اپنے دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد تک بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔

اگرچہ یہ بجٹ ہدف دفاعی ٹھیکیداروں کے لیے ایک بڑا فائدہ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم ٹرمپ نے اسی دوران ٹروتھ سوشل پر کی گئی پوسٹس میں ان کمپنیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

ٹرمپ نے کہا کہ دفاعی ٹھیکیدار اپنے شیئر ہولڈرز کو بھاری منافع اور بڑے پیمانے پر شیئرز کی واپسی دے رہے ہیں، جبکہ کارخانوں اور آلات میں سرمایہ کاری کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور دفاعی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہیں ’حد سے زیادہ اور ناقابلِ جواز‘ ہیں۔

مزید پڑھیں:

صدر نے کہا کہ تنخواہوں کی حد 50 لاکھ ڈالر مقرر ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ اسٹاک بائی بیکس اور منافع کی ادائیگی پر پابندی عائد کریں گے جب تک یہ مسائل درست نہیں ہو جاتے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ایسا کس طرح کریں گے۔

اس اعلان نے مارکیٹ کو حیران کر دیا، جس کے نتیجے میں لاک ہیڈ مارٹن اور جنرل ڈائنامکس سمیت امریکی دفاعی شعبے کی کمپنیوں کے شیئرز میں 4 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی، جبکہ نارتھروپ گرومن کے شیئرز میں 5 فیصد سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔

مزید پڑھیں:

صدر ٹرمپ نے خاص طور پر رےتھیون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محکمہ دفاع نے انہیں بتایا ہے کہ یہ کمپنی اپنی ضروریات کے حوالے سے ’سب سے کم جواب دہ اور پیداواری حجم بڑھانے میں سب سے سست‘ ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ رےتھیون کو اپنے کارخانوں اور آلات میں سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی، اور خبردار کیا کہ اگر کمپنی نے ایسا نہ کیا تو اسے امریکی حکومت کے کاروبار سے محرومی کا سامنا کرنا  پڑسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایرانی ٹروتھ سوشل ٹیرف جوہری تنصیبات دفاعی بجٹ ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی بجٹ نکولس مادورو وینزویلا یمنی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایرانی ٹروتھ سوشل ٹیرف جوہری تنصیبات دفاعی بجٹ ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی بجٹ نکولس مادورو وینزویلا ٹریلین ڈالر دفاعی بجٹ نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل