ٹرمپ کا امریکی دفاعی بجٹ 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کا اعلان، اسلحہ کی نئی دوڑ کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ سال امریکی دفاعی بجٹ میں 50 فیصد اضافہ کرنا چاہتے ہیں، جس کے بعد یہ رقم ایک بہت بڑی سطح یعنی 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی، تاکہ پرآشوب اور خطرناک دور سے نمٹا جا سکے۔
دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے صدر ٹرمپ امریکی فوج کو، جسے پہلے ہی ریکارڈ سطح کی فنڈنگ حاصل ہے، بارہا استعمال کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
انہوں نے یمنی باغیوں پر حملے، ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے، مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث کشتیوں پر کارروائی، اور وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو اغوا کرنے کے لیے خصوصی فورسز کے ایک آپریشن سمیت متعدد اقدامات کیے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ انہوں نے یہ طے کیا ہے کہ اپنے ملک کی بہتری کے لیے، خصوصاً ان نہایت پُرآشوب اور خطرناک اوقات میں، سال 2027 کے لیے امریکی فوجی بجٹ 1 ٹریلین ڈالر نہیں بلکہ 1.
???? pic.twitter.com/ZdgIjisiD4
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) January 7, 2026
’اس سے ہمیں وہ ڈریم فوج تعمیر کرنے میں مدد ملے گی جس کے ہم طویل عرصے سے حق دار ہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ہمیں ہر دشمن کے مقابلے میں محفوظ اور پرامن رکھے گی۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ یہ اضافہ ان وسیع ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن کے باعث ممکن ہے جو انہوں نے دوست اور دشمن دونوں ممالک پرعائد کیے ہیں۔
امریکا پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا فوجی اخراجات کرنے والا ملک ہے اور دفاعی بجٹ کو 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانا چین اور روس جیسے حریفوں کے مقابلے میں واشنگٹن کی مالی برتری کو مزید بڑھا دے گا، تاہم اس سے ان ممالک کے ساتھ اسلحہ کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
دفاعی کمپنیوں پر ٹرمپ کی تنقیدامریکی فوجی بجٹ میں اضافے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹو کے اتحادیوں نے گزشتہ سال امریکی صدر کے دباؤ کے تحت 2035 تک اپنے دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد تک بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔
اگرچہ یہ بجٹ ہدف دفاعی ٹھیکیداروں کے لیے ایک بڑا فائدہ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم ٹرمپ نے اسی دوران ٹروتھ سوشل پر کی گئی پوسٹس میں ان کمپنیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ دفاعی ٹھیکیدار اپنے شیئر ہولڈرز کو بھاری منافع اور بڑے پیمانے پر شیئرز کی واپسی دے رہے ہیں، جبکہ کارخانوں اور آلات میں سرمایہ کاری کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور دفاعی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہیں ’حد سے زیادہ اور ناقابلِ جواز‘ ہیں۔
مزید پڑھیں:
صدر نے کہا کہ تنخواہوں کی حد 50 لاکھ ڈالر مقرر ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ اسٹاک بائی بیکس اور منافع کی ادائیگی پر پابندی عائد کریں گے جب تک یہ مسائل درست نہیں ہو جاتے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ایسا کس طرح کریں گے۔
اس اعلان نے مارکیٹ کو حیران کر دیا، جس کے نتیجے میں لاک ہیڈ مارٹن اور جنرل ڈائنامکس سمیت امریکی دفاعی شعبے کی کمپنیوں کے شیئرز میں 4 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی، جبکہ نارتھروپ گرومن کے شیئرز میں 5 فیصد سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں:
صدر ٹرمپ نے خاص طور پر رےتھیون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محکمہ دفاع نے انہیں بتایا ہے کہ یہ کمپنی اپنی ضروریات کے حوالے سے ’سب سے کم جواب دہ اور پیداواری حجم بڑھانے میں سب سے سست‘ ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ رےتھیون کو اپنے کارخانوں اور آلات میں سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی، اور خبردار کیا کہ اگر کمپنی نے ایسا نہ کیا تو اسے امریکی حکومت کے کاروبار سے محرومی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایرانی ٹروتھ سوشل ٹیرف جوہری تنصیبات دفاعی بجٹ ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی بجٹ نکولس مادورو وینزویلا یمنی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایرانی ٹروتھ سوشل ٹیرف جوہری تنصیبات دفاعی بجٹ ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی بجٹ نکولس مادورو وینزویلا ٹریلین ڈالر دفاعی بجٹ نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر