وینزویلا کے صدر کا اغواء، امریکی غنڈہ گردی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کسی خودمختار ملک کے صدر کو اس کے دارالحکومت سے یوں اٹھا لینا صرف بیرونی طاقت کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ایسے ہاتھ درکار ہوتے ہیں جو وقت پر نہ اٹھیں، ایسی آنکھیں جو دیکھ کر بھی نہ دیکھیں اور ایسے ضمیر جو قیمت لے کر خاموش ہو جائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں توپوں اور میزائلوں سے کم اور اپنے ہی لوگوں کی بے وفائی سے زیادہ گرتی ہیں۔ جب حفاظتی دائرہ دانستہ نرم کیا جائے، جب کمانڈ میں تذبذب پیدا کیا جائے اور جب فیصلے فائلوں میں الجھا دیے جائیں تو چند منٹوں میں پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔
امریکا نے یہ طریقہ پہلی بار استعمال نہیں کیا۔ 2003 میں عراق پر حملے سے قبل بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ کیمیائی ہتھیاروں کا شور مچایا گیا، دنیا کو خوف میں مبتلا کیا گیا اور پھر حملہ کر دیا گیا۔ بعد میں ثابت ہوا کہ نہ کوئی کیمیائی ہتھیار تھے اور نہ ہی وہ خطرات جن کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اصل مقصد عراق کے تیل کی دولت، سونے کے ذخائر اور قدرتی معدنیات پر قبضہ تھا۔ صدام حسین کا انجام اسی منصوبے کی ایک کڑی بنا۔ آج وینزویلا کے ساتھ بھی وہی منطق دہرائی جا رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بیانیہ بدلا ہے، مگر مقصد وہی ہے۔ وسائل پر قبضہ اور خودمختار قیادت کا خاتمہ۔ غداری کی یہ داستان نئی نہیں۔ معمر قذافی کی مثال سامنے ہے۔ بیرونی حملہ بعد میں ہوا، اندرونی کمزوریاں پہلے پیدا کی گئیں۔ آج مادورو کے معاملے میں بھی سوال یہی ہے کہ کیا ریاست واقعی لاعلم تھی یا سب کچھ جانتے ہوئے بھی فیصلہ تاخیر کا شکار ہوا۔ فوجیں خود سے جنگ نہیں چھیڑتیں، وہ حکم کی پابند ہوتی ہیں۔ جب قیادت ناقابل ِ رسائی ہو جائے، جب معلومات بکھر جائیں اور جب ایک حکم دوسرے حکم کی توثیق کا انتظار کرے تو ریاست چند لمحوں میں بے اثر ہو جاتی ہے۔ اس پورے منظرنامے میں امریکی دوہرے معیار کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوتا ہے۔ ایک طرف عالمی عدالت ِ انصاف کے فیصلوں اور سنگین الزامات کے باوجود بن یامین نیتن یاہو واشنگٹن میں سرخ قالین پر اُترتے ہیں، اور دوسری طرف ایک خودمختار ریاست کے صدر کو قانون کے نام پر اغواء کر کے عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔ اگر یہی قانون ہے تو یہ صرف طاقتور کے لیے ہے، کمزور کے لیے نہیں۔ یہی وہ غنڈہ گردی ہے جس نے عالمی نظامِ انصاف کو تماشا بنا دیا ہے۔
امریکی قیادت شاید یہ بھول گئی ہے کہ یہ 2003 نہیں ہے، جب دنیا صرف سی این این، بی بی سی اور فاکس نیوز جیسے مغربی چینلز پر انحصار کرتی تھی۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے۔ درست حقائق اور اصل معلومات لمحوں میں دنیا تک پہنچتی ہیں، اور طاقتور اقوام کی غنڈہ گردی پر سچائی پر مبنی تبصرے فوراً سامنے آ جاتے ہیں۔ جیسے ہی وینزویلا کے صدر کے اغواء کی خبر پھیلی، سوشل میڈیا پر عراق پر امریکی حملے کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ امریکی افواج کی سونے کی اینٹوں پر بیٹھ کر بنائی گئی تصاویر، اور قیدیوں پر غیر انسانی اور غیر اخلاقی تشدد کی ویڈیوز دوبارہ گردش کرنے لگیں۔ منظر یہ تھا کہ گویا دنیا ایک طرف کھڑی ہے اور امریکا دوسری طرف، حتیٰ کہ امریکا کے اپنے عوام بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر قانونی اقدام پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ یہاں یہ بھی واضح ہے کہ دنیا مکمل خاموش نہیں رہی۔ لاطینی امریکا، افریقا اور ایشیا کے کئی ممالک نے اس اقدام کو ریاستی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ یہ آوازیں شاید کمزور ہوں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچ کی آواز ابتدا میں کمزور ہی ہوتی ہے، پھر وقت اسے طاقت دیتا ہے۔ کمزور اور خوددار ممالک جانتے ہیں کہ اگر آج ایک ریاستی سربراہ کو اغواء کرنا معمول بن گیا تو کل کسی بھی ملک کی خودمختاری محفوظ نہیں رہے گی۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اغواء اور غیر معمولی گرفتاریوں کی یہ روایت آج شروع نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے معصوم بچوں کے اغواء پر بھی دنیا خاموش رہی تھی۔ تب بھی سہولت کار موجود تھے، اور ان میں جنرل پرویز مشرف جیسے کردار تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ آج منظرنامہ بدلا ہے، مگر کہانی وہی ہے۔ بیرونی طاقت اور اندرونی غداری۔ اس روش کے مستقبل قریب میں نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اگر ریاستی سربراہوں کے اغواء کو معمول بنا دیا گیا تو عالمی نظام توازن کھو دے گا۔ جب قانون کمزور اور انصاف منتخب ہو جائے تو ریاستیں اپنی بقا کے لیے ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہی راستہ عالمی جنگوں کی طرف جاتا ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ ان جنگوں کی قیمت سب سے زیادہ غریب قومیں ادا کرتی ہیں۔ آخر میں تاریخ کا وہ اٹل سبق یاد رکھنا ہوگا جو صلاح الدین ایوبی نے صدیوں پہلے دیا تھا کہ میں دشمن سے نہیں، غدار سے ڈرتا ہوں، دشمن سامنے سے وار کرتا ہے مگر غدار پیٹھ میں خنجر گھونپتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا نشانہ کون ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا قومیں اب بھی اپنے غداروں کو پہچانیں گی یا نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔