Jasarat News:
2026-07-24@07:00:13 GMT

وینزویلا کے صدر کا اغواء، امریکی غنڈہ گردی

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کسی خودمختار ملک کے صدر کو اس کے دارالحکومت سے یوں اٹھا لینا صرف بیرونی طاقت کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ایسے ہاتھ درکار ہوتے ہیں جو وقت پر نہ اٹھیں، ایسی آنکھیں جو دیکھ کر بھی نہ دیکھیں اور ایسے ضمیر جو قیمت لے کر خاموش ہو جائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں توپوں اور میزائلوں سے کم اور اپنے ہی لوگوں کی بے وفائی سے زیادہ گرتی ہیں۔ جب حفاظتی دائرہ دانستہ نرم کیا جائے، جب کمانڈ میں تذبذب پیدا کیا جائے اور جب فیصلے فائلوں میں الجھا دیے جائیں تو چند منٹوں میں پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔

امریکا نے یہ طریقہ پہلی بار استعمال نہیں کیا۔ 2003 میں عراق پر حملے سے قبل بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ کیمیائی ہتھیاروں کا شور مچایا گیا، دنیا کو خوف میں مبتلا کیا گیا اور پھر حملہ کر دیا گیا۔ بعد میں ثابت ہوا کہ نہ کوئی کیمیائی ہتھیار تھے اور نہ ہی وہ خطرات جن کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اصل مقصد عراق کے تیل کی دولت، سونے کے ذخائر اور قدرتی معدنیات پر قبضہ تھا۔ صدام حسین کا انجام اسی منصوبے کی ایک کڑی بنا۔ آج وینزویلا کے ساتھ بھی وہی منطق دہرائی جا رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بیانیہ بدلا ہے، مگر مقصد وہی ہے۔ وسائل پر قبضہ اور خودمختار قیادت کا خاتمہ۔ غداری کی یہ داستان نئی نہیں۔ معمر قذافی کی مثال سامنے ہے۔ بیرونی حملہ بعد میں ہوا، اندرونی کمزوریاں پہلے پیدا کی گئیں۔ آج مادورو کے معاملے میں بھی سوال یہی ہے کہ کیا ریاست واقعی لاعلم تھی یا سب کچھ جانتے ہوئے بھی فیصلہ تاخیر کا شکار ہوا۔ فوجیں خود سے جنگ نہیں چھیڑتیں، وہ حکم کی پابند ہوتی ہیں۔ جب قیادت ناقابل ِ رسائی ہو جائے، جب معلومات بکھر جائیں اور جب ایک حکم دوسرے حکم کی توثیق کا انتظار کرے تو ریاست چند لمحوں میں بے اثر ہو جاتی ہے۔ اس پورے منظرنامے میں امریکی دوہرے معیار کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوتا ہے۔ ایک طرف عالمی عدالت ِ انصاف کے فیصلوں اور سنگین الزامات کے باوجود بن یامین نیتن یاہو واشنگٹن میں سرخ قالین پر اُترتے ہیں، اور دوسری طرف ایک خودمختار ریاست کے صدر کو قانون کے نام پر اغواء کر کے عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔ اگر یہی قانون ہے تو یہ صرف طاقتور کے لیے ہے، کمزور کے لیے نہیں۔ یہی وہ غنڈہ گردی ہے جس نے عالمی نظامِ انصاف کو تماشا بنا دیا ہے۔

امریکی قیادت شاید یہ بھول گئی ہے کہ یہ 2003 نہیں ہے، جب دنیا صرف سی این این، بی بی سی اور فاکس نیوز جیسے مغربی چینلز پر انحصار کرتی تھی۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے۔ درست حقائق اور اصل معلومات لمحوں میں دنیا تک پہنچتی ہیں، اور طاقتور اقوام کی غنڈہ گردی پر سچائی پر مبنی تبصرے فوراً سامنے آ جاتے ہیں۔ جیسے ہی وینزویلا کے صدر کے اغواء کی خبر پھیلی، سوشل میڈیا پر عراق پر امریکی حملے کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ امریکی افواج کی سونے کی اینٹوں پر بیٹھ کر بنائی گئی تصاویر، اور قیدیوں پر غیر انسانی اور غیر اخلاقی تشدد کی ویڈیوز دوبارہ گردش کرنے لگیں۔ منظر یہ تھا کہ گویا دنیا ایک طرف کھڑی ہے اور امریکا دوسری طرف، حتیٰ کہ امریکا کے اپنے عوام بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر قانونی اقدام پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ یہاں یہ بھی واضح ہے کہ دنیا مکمل خاموش نہیں رہی۔ لاطینی امریکا، افریقا اور ایشیا کے کئی ممالک نے اس اقدام کو ریاستی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ یہ آوازیں شاید کمزور ہوں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچ کی آواز ابتدا میں کمزور ہی ہوتی ہے، پھر وقت اسے طاقت دیتا ہے۔ کمزور اور خوددار ممالک جانتے ہیں کہ اگر آج ایک ریاستی سربراہ کو اغواء کرنا معمول بن گیا تو کل کسی بھی ملک کی خودمختاری محفوظ نہیں رہے گی۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اغواء اور غیر معمولی گرفتاریوں کی یہ روایت آج شروع نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے معصوم بچوں کے اغواء پر بھی دنیا خاموش رہی تھی۔ تب بھی سہولت کار موجود تھے، اور ان میں جنرل پرویز مشرف جیسے کردار تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ آج منظرنامہ بدلا ہے، مگر کہانی وہی ہے۔ بیرونی طاقت اور اندرونی غداری۔ اس روش کے مستقبل قریب میں نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اگر ریاستی سربراہوں کے اغواء کو معمول بنا دیا گیا تو عالمی نظام توازن کھو دے گا۔ جب قانون کمزور اور انصاف منتخب ہو جائے تو ریاستیں اپنی بقا کے لیے ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہی راستہ عالمی جنگوں کی طرف جاتا ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ ان جنگوں کی قیمت سب سے زیادہ غریب قومیں ادا کرتی ہیں۔ آخر میں تاریخ کا وہ اٹل سبق یاد رکھنا ہوگا جو صلاح الدین ایوبی نے صدیوں پہلے دیا تھا کہ میں دشمن سے نہیں، غدار سے ڈرتا ہوں، دشمن سامنے سے وار کرتا ہے مگر غدار پیٹھ میں خنجر گھونپتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا نشانہ کون ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا قومیں اب بھی اپنے غداروں کو پہچانیں گی یا نہیں۔

عبید مغل سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے صدر کے لیے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار