سڈنی ٹیسٹ میں انگلینڈ کو شکست، ایشز سیریز آسٹریلیا کے نام
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
آسٹریلیا نے جمعرات کو 5ویں ایشز ٹیسٹ کے آخری دن چند نروس لمحات کے باوجود 160 رنز کا ہدف محفوظ انداز میں حاصل کر لیا اور 5 وکٹوں سے کامیابی کے ساتھ سیریز 4-1 سے اپنے نام کر لی۔
انگلینڈ کی جانب سے فاسٹ بولر جوش ٹنگ نے 42 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کر کے مزاحمت کی قیادت کی، تاہم الیکس کیری نے کیمرون گرین کے ساتھ مل کر مڈ آف کے اوپر کورز کی جانب چوکا لگا کر دوپہر کے وسط میں آسٹریلیا کو فتح سے ہمکنار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں:
انگلینڈ اس بات کا کریڈٹ لے سکتا ہے کہ اس نے میچ کو مقابلہ بنایا اور سڈنی کے تاریخی میدان میں سیریز کے اختتامی غیر اہم ٹیسٹ میں خود کومکمل طور پر تباہی سے بچائے رکھا، جیسا کہ ماضی میں کئی دورہ کرنے والی ٹیموں کے ساتھ ہو چکا ہے۔
The Ashes belong to Australia!
Steve Smith and Pat Cummins lift the trophy after a 4-1 series win ???? pic.
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) January 8, 2026
تاہم زخمی کپتان بین اسٹوکس کی عدم موجودگی میں بولنگ کے بغیر 160 رنز کا دفاع ایک مشکل چیلنج تھا، خاص طور پر ایسی پچ پر جو سیریز میں دوسری بار 5ویں دن بیٹنگ کے لیے سازگار ثابت ہوئی۔
اسٹوکس سلپس میں کھڑے ہو کر اپنے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے، لیکن آسٹریلوی اوپنرز نے ہدف 100 رنز سے کم کردیا، اس سے قبل پہلی اننگز میں آسٹریلیا کے 567 رنز کی بنیاد اپنی تیسری سینچری سے رکھنے والے ٹریوس ہیڈ جوش ٹنگ کی گیند پر مڈ وکٹ کی جانب شاٹ کھیلتے ہوئے 29 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔
جیک ویترالڈ 34 رنز بنا کر بھی ٹنگ ہی کی بولنگ پر کیچ آؤٹ ہوئے، جس کے ساتھ ہی لنچ تک آسٹریلیا کو جیت کے لیے 89 رنز درکار تھے۔
مزید پڑھیں:
یہ اس دن کے 15 سال اور ایک دن بعد تھا جب انگلینڈ نے 11-2010 کی سیریز کے آخری ٹیسٹ میں اسی میدان پر ایک اننگز اور 83 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی, یہی آخری موقع تھا جب انگلینڈ نے آسٹریلیا میں ایشز سیریز جیتی تھی۔
انگلش کھلاڑیوں نے عثمان خواجہ کو کریز پر خوش آمدید کہنے کے لیے قطار بنائی، تاہم ٹنگ کی بولنگ زیادہ دوستانہ ثابت نہ ہوئی اور بائیں ہاتھ کے بلے باز نے سات گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد 6 رنز پر اپنی ہی وکٹ پر گیند مار بیٹھے۔
مارنس لبوشین کو ٹنگ کی گیند پر 20 رنز پر زندگی ملی جب بیتھل بیک ورڈ پوائنٹ پر ایک شاندار چھلانگ کے باوجود کیچ نہ تھام سکے۔
مزید پڑھیں:
تاہم وہ اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور 37 رنز پر رن آؤٹ ہو گئے، اس وقت جیت کے لیے آسٹریلیا کو 39 رنز درکار تھے۔
ناقابل شکست اننگز کھیلنے والے الیکس کیری اور کیمرون گرین ایک اوور تھرو کے بعد غلط فہمی کے باعث تقریباً لبوشین جیسے انجام سے دوچار ہو گئے، لیکن آخرکار کریز تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور فتح یقینی بنائی۔
اس سے قبل انگلینڈ نے دن کا آغاز 302 رنز پر 8 وکٹوں کے نقصان سے کیا تھا، مگر مچل اسٹارک نے بیتھل کو 154 رنز پر کیچ آؤٹ کرا کے انگلینڈ کی امیدوں کو بڑا دھچکا پہنچایا۔
مزید پڑھیں:
بیتھل کی شاندار پہلی ٹیسٹ سنچری نے مستقبل کے لیے بھرپور امید دلائی اور یہی کارکردگی انگلینڈ کو اننگز کی شکست سے بچانے اور آسٹریلیا کو دوبارہ بیٹنگ پر لانے کا سبب بنی۔
اسٹارک نے بعد میں جوش ٹنگ کو 6 رنز پر آؤٹ کر کے انگلینڈ کی اننگز 342 رنز پر سمیٹ دی۔
بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر نے میچ میں 72 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ پوری سیریز میں ان کی وکٹوں کی تعداد 31 رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا انگلینڈ ایشز سیریز بین اسٹوکس سڈنی ٹیسٹ کرکٹ مچل اسٹارک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا انگلینڈ ایشز سیریز بین اسٹوکس سڈنی ٹیسٹ کرکٹ مچل اسٹارک کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔