خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کی رپورٹ کے مطابق الجزیرہ نیٹ ورک کی ویب سائٹ نے ایک تجزیاتی مضمون شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تہران، کاراکاس نہیں ہے، اور اسلامی جمہوریہ ایران اگرچہ متعدد بحرانوں کا سامنا کرے، پھر بھی مضبوطی سے اپنے قدم جمائے رکھتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی نیوز نیٹ ورک الجزیرہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران، کاراکاس نہیں ہے اور ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ ناکامی سے دوچار ہوگا۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کی رپورٹ کے مطابق الجزیرہ نیٹ ورک کی ویب سائٹ نے ایک تجزیاتی مضمون شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تہران، کاراکاس نہیں ہے، اور اسلامی جمہوریہ ایران اگرچہ متعدد بحرانوں کا سامنا کرے، پھر بھی مضبوطی سے اپنے قدم جمائے رکھتا ہے۔ جو کچھ کاراکاس میں پیش آیا، وہ تہران میں دہرایا نہیں جا سکتا۔ چھ ماہ قبل، ایران نے واضح کر دیا تھا کہ اس کے نظام کو تبدیل کرنا آسان نہیں۔

اسی طرح 12 روزہ جنگ کے دوران اگرچہ تہران کی بعض کمزوریاں سامنے آئیں، لیکن اسی کے ساتھ اس کی غیر معمولی قوتِ برداشت بھی نمایاں ہو گئی۔ اسرائیل کے اچانک حملوں، اہم ترین فوجی کمانڈروں کی شہادت، اور صہیونی ریاست کی جانب سے دیگر حکام اور کمانڈروں کو فرار یا موت کے درمیان انتخاب کی دھمکیوں کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران متزلزل نہیں ہوا۔ ایران اس جنگ کے دوران نہ صرف ڈٹا رہا بلکہ اس نے اسرائیلی حملوں کے ساتھ ساتھ امریکی حملے کا بھی جواب دیا۔ ایران کے پاس تقریباً دس لاکھ مسلح اہلکاروں پر مشتمل خطے کی سب سے بڑی فوج ہے، اور اپنے پہاڑی جغرافیے اور وسیع شہری علاقوں کے باعث اس پر حملہ کرنا آسان نہیں۔ ایرانی نظام اپنی مضبوط بنیادوں پر انحصار کرتے ہوئے، جو کٹھن اور تکلیف دہ ادوار کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، چار دہائیوں پر محیط پابندیوں، جنگوں اور داخلی نشیب و فراز سے کامیابی کے ساتھ گزر چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کاراکاس نہیں

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ