ایران میں جاری پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت آگئی، مظاہرین کی فائرنگ سے 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں تازہ واقعات کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 30 زخمی ہو گئے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق لردگان شہر میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہو گئی جب دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کر کے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر حکومت مخالف نعرے لگائے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور بعض افراد کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔
رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے لردگان میں گورنر آفس سمیت دیگر سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب شمالی خراسان کے شہر بجنورد میں ایک دکان کو نذرِ آتش کر دیا گیا، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے قریب کھڑی ایک شہری کی گاڑی کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے 11 روز سے جاری ہیں اور اب تک جھڑپوں میں ہلاک افراد کی تعداد 35 تک پہنچ چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)بلوچستان میں آپریشن العزم کے تحت دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک ہو گئے،دہشتگردوں سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمدہوا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق متعدد دہشتگردوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں،دہشتگردوں کی سہولت کاری میں ملوث متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیاگیا۔
مزید :