میدانی علاقوں میں دھند، پہاڑوں میں یخ بستہ موسم، بلوچستان میں درجہ حرارت منفی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لاہور، اسلام آباد(ویب ڈیسک) محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں شدید سردی کی لہر برقرار رہنے کی توقع ہے۔
پنجاب، بالائی سندھ اور خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات میں درمیانی سے شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ہے جس کے باعث حدِ نگاہ متاثر ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد اور گردونواح میں موسم سرد اور خشک رہنے کی توقع ہے، تاہم صبح کے اوقات میں چند مقامات پر کہرا پڑ سکتا ہے۔
پنجاب کے بیشتر اضلاع میں سرد اور خشک موسم رہے گا جبکہ مری، گلیات اور ملحقہ علاقوں میں شدید سردی کا امکان ہے، صوبے کے مختلف میدانی اضلاع میں دھند کی شدت برقرار رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
سندھ کے بالائی اضلاع بشمول سکھر، لاڑکانہ، دادو اور گردونواح میں بھی درمیانی سے شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ہے، خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں سرد اور خشک موسم جبکہ پشاور، مردان، بنوں اور ڈی آئی خان سمیت مختلف علاقوں میں دھند متوقع ہے۔
گلگت بلتستان اور کشمیر میں موسم شدید سرد اور خشک رہنے کی توقع ہے، تاہم کشمیر میں صبح کے اوقات میں چند مقامات پر کہرا پڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، شمالی اضلاع میں موسم انتہائی سرد رہے گا اور کم سے کم درجہ حرارت کئی علاقوں میں منفی میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4، قلات میں منفی 7، زیارت میں منفی 9 اور ژوب میں منفی 2 ریکارڈ ہوا ہے۔
سبی میں درجہ حرارت 6 اور تربت میں 12 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ نوکنڈی میں کم سے کم درجہ حرارت 1 اور چمن میں منفی 1 رہا، گوادر میں کم سے کم درجہ حرارت 12 اور جیوانی میں 11 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو سردی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور کمزور افراد، بزرگوں اور بچوں کی خاص دیکھ بھال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرد اور خشک رہنے رہنے کا امکان ہے علاقوں میں اضلاع میں میں منفی کیا گیا رہنے کی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔