کترینا کیف اور وکی کوشل کے بیٹے کے نام اداکارہ کی کامیاب فلم ’اڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک‘ سے تعلق پر سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا جب کہ اس پر فلم ’اڑی‘ کے ہدایت کا ردعمل بھی وائرل ہوگیا۔

بالی ووڈ اداکارہ کترینہ کیف اور اداکار وکی کوشل نے انسٹاگرام پر اپنے بیٹے کی پیدائش کا اعلان کیا تھا اور گزشتہ روز اس جوڑی نے سوشل میڈیا پر ہی اپنے بیٹے کے نام سے متعلق بتایا۔

بالی ووڈ کے مشہور جوڑے کترینا کیف اور وکی کوشل نے اپنے بیٹے کی پیدائش کے دو ماہ مکمل ہونے پر اس کے نام کا اعلان کیا۔

        View this post on Instagram                      

گزشتہ روز جوڑے نے انسٹاگرام پر اپنے بیٹے کی پہلی جھلک شیئر کی، سبز پس منظر میں لی گئی تصویر میں مشہور جوڑی اپنے ننھے بیٹے کا چھوٹا سا ہاتھ تھامے نظر آ رہے ہیں۔

کیپشن میں انہوں نے اپنے بیٹے کو ’روشنی کی کرن‘ قرار دیتے ہوئے اپنی زندگی میں اس کی آمد پر شکرگزاری کا اظہار کیا۔

انہوں نے لکھا  ہے کہ ہماری روشنی کی کرن، ویہان کوشل، دعائیں قبول ہوئیں، زندگی خوبصورت ہے، ہماری دنیا ایک لمحے میں بدل گئی۔

جیسے ہی یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر آئی، مداحوں نے اس نام کا وکی کی ایکشن ڈراما فلم اُری: دی سرجیکل اسٹرائیک سے تعلق جوڑا۔

2019 میں ریلیز ہونے والی پاکستان مخالف پروپیگنڈہ فلم میں 37 سالہ وکی کوشل نے ایک فوجی افسر کا کردار ادا کیا تھا، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم میں ان کے کردار کا نام بھی وہی تھا جو انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے رکھا ہے۔

فلم اڑی کے ہدایت کار آدتیہ دھر کا ردِعمل

وکی اور کترینا نے اپنے بیٹے کا نام ویہان رکھا ہے، جب کہ فلم میں وکی کے کردار کا نام میجر ویہان شیرگل تھا، اس دلچسپ مماثلت پر فلم کے ہدایتکار آدتیہ دھر نے بھی خوبصورت ردِعمل دیا۔

ہدایت کار نے ایک پوسٹ میں جوڑی کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا ’دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ میرے وکی، اسکرین پر میجر ویہان شیرگل کو زندگی دینے سے لے کر اب ننھے ویہان کو اپنی بانہوں میں تھامنے تک، زندگی واقعی ایک مکمل دائرہ بن گئی ہے، تم تینوں کے لیے ڈھیروں محبت اور دعائیں، تم دونوں شاندار والدین ثابت ہو گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے اپنے بیٹے میڈیا پر وکی کوشل انہوں نے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق