حجاب اور نقاب کے ساتھ زیورات خریدنے پر پابندی، جیولری تاجروں کے فیصلے نے ہنگامہ کھڑا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
بھارت کی ریاست بہار میں جیولری تاجروں کے ایک فیصلے نے سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس کے تحت چہرہ ڈھانپ کر آنے والے گاہکوں، جن میں حجاب، نقاب یا برقع پہننے والے افراد بھی شامل ہیں، کو زیورات کی دکانوں میں داخلے سے روکا جائے گا۔
آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈ فیڈریشن (AIGJF) کے مطابق یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی گاہک، خواہ مرد ہو یا عورت، اگر اسکارف، برقع، نقاب یا ہیلمٹ کے ذریعے چہرہ ڈھانپے ہوئے ہو تو خریداری سے قبل اسے شناخت کے لیے اپنا چہرہ ظاہر کرنا ہوگا۔
ادھر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ترجمان اعجاز احمد نے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی کے نام پر مذہبی آزادی کو نشانہ بنا رہا ہے اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس فیصلے کے پیچھے بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایجنڈا کارفرما ہے اور مطالبہ کیا کہ AIGJF فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لے۔
بہار میں جیولرز فیڈریشن کے ریاستی صدر اشوک کمار ورما نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بہار پہلا صوبہ ہے جہاں یہ اصول ریاست بھر میں نافذ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سونے اور چاندی کی بڑھتی قیمتوں اور حالیہ ڈکیتیوں کے واقعات کے بعد یہ قدم صرف سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔
اشوک کمار ورما کا کہنا تھا کہ یہ پابندی کسی خاص مذہب کے خلاف نہیں بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں پر یکساں طور پر لاگو ہوگی۔ عملہ گاہکوں سے مؤدبانہ انداز میں تعاون کی درخواست کرے گا اور کسی قسم کی زبردستی نہیں کی جائے گی۔ پولیس نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے۔
یہ معاملہ بہار میں سیکیورٹی اور مذہبی آزادی کے درمیان توازن پر جاری بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر رہا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس پر ردِعمل کا سلسلہ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔