امریکا سے تعلقات؛ سفیرِ پاکستان کی معاشی و سیکیورٹی تعاون کے فروغ پر اہم ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
امریکا میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے نئے سال کے آغاز پر اعلیٰ امریکی قیادت سے اہم ملاقاتوں کا مثبت سلسلہ شروع کردیا ہے۔
امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو سال نو کی مبارکباد دی اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سفیر پاکستان نے پاک امریکا تعلقات کے فروغ کے حوالے سے چیئرمین برائن ماسٹ کی قیادت، کاوشوں اور مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس عزم کا حوالہ دیا کہ دوطرفہ تعلقات کو اقتصادی تعاون پر مبنی طویل مدتی اور پائیدار شراکت داری میں ڈھالا جائے ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سال 2026 کو عمل کا سال قرار دیا جانا چاہیے۔
ملاقات میں سفیر پاکستان نے دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ سطح کا معاشی مکالمہ جلد از جلد شروع کیے جانے پر زور دیا۔ انہوں نے توانائی، ڈیفنس، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبہ جات میں جامع اور فوری ڈائیلاگ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ کم لاگت اور اعلیٰ معیار کی صلاحیت سے مزین پاکستان امریکی منڈی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
رضوان سعید شیخ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں تیار شدہ سرجیکل آلات اور مصنوعات اپنے معیار کی بدولت دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اسی طرح موافق تجارتی ماحول اور مناسب توجہ ٹیکسٹائل اور دیگر پاکستانی برآمدات میں یقینی اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 5 فیفا ورلڈ کپ کے میچز میں سیالکوٹ میں تیار شدہ فٹ بالوں کا لگاتار استعمال اسپورٹس گڈز کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ملاقات میں علاقائی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں سفیر پاکستان نے کہا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی سے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال اور علاقائی و بین الاقوامی امن کو سنجیدہ خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کی کارروائیوں کے باعث سال 2024 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 40 فیصد جب کہ سال 2025 میں مزید 25 فیصد اضافہ ہوا۔
سفیر پاکستان نے افغانستان سے انخلا کے وقت چھوڑے گئے اسلحے کے مسلسل غلط اور جارحانہ استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے امریکی کانگریس کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ کو دورۂ پاکستان کی دعوت بھی دی اور کہا کہ یہ دورہ پارلیمانی اور عوامی روابط کو مزید مستحکم بنائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے مابین اقتصادی، سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سفیر پاکستان نے پاکستان کی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :