آسٹریلیا میں یہودی مخالف حملوں کی تحقیقات کے لیے قومی رائل کمیشن کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے یہودیوں کے خلاف تعصب کے معاملے کی تحقیقات کے لیے وسیع پیمانے پر قومی انکوائری کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان اس واقعے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا جس میں 2 مسلح افراد نے بونڈائی بیچ پر ایک یہودی تعطیلاتی تقریب پر فائرنگ کر کے 15 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
انکوائری رائل کمیشن کی شکل میں ہوگی، جو آسٹریلیا میں منعقد کی جانے والی سب سے بڑی اور آزاد عوامی تحقیقات میں سے سب سے اہم نوعیت کی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
البانیز نے جمعرات کو کیمپرا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی قیادت سابق ہائیکورٹ جج ورجینیا بیل کریں گی۔
البانیز کے مطابق، یہ انکوائری عام طور پر یہودی مخالف رجحانات کی نوعیت، وسعت اور محرکات کے ساتھ ساتھ بونڈائی میں ہونے والے بڑے فائرنگ واقعے کے حالات کی بھی تحقیقات کرے گی۔
اس کے علاوہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سفارشات، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے، اور انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے طریقے بھی تجویز کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:
رپورٹ 14 دسمبر تک پیش کی جائے گی، جو اسی دن ہوگی جب ایک سال قبل سڈنی کے ایک معروف مقام پر ہنوکا کی تقریب کے دوران یہ فائرنگ واقع ہوئی تھی۔
البانیز نے مذکورہ حملے کو ایک یہودی مخالف دہشت گردانہ حملہ قرار دیا تھا، جو آسٹریلوی یہودیوں کو نشانہ بنانے کے لیے آئسس سے متاثر ہو کر کیا گیا، آسٹریلوی سر زمین پر اب تک کا سب سے مہلک حملہ تھا۔
اس واقعے کے زندہ بچ جانے والے 24 سالہ ملزم نوید اکرم کو قتل اور دہشت گردی سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے، وہ ابھی تک کوئی جوابدہی داخل نہیں کر سکا۔
مزید پڑھیں:
اس کے والد ساجد اکرم اس واقعے کے دوران پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا کہ سیاستدانوں، یہودی رہنماؤں اور دیگر عوامی شخصیات بشمول معروف کھلاڑیوں نے ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں ریاستی سطح کی انکوائری کے بجائے قومی رائل کمیشن کے انعقاد کا مطالبہ کیا تھا۔
البانیز نے پہلے کہا تھا کہ اس نوعیت کی وسیع پیمانے پر انکوائری زیادہ وقت لے سکتی ہے، لیکن جمعرات کو انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ وہ دباؤ میں آ کر اپنی رائے بدل گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:
’میں نے سنا، اور جمہوریت میں یہ ایک اچھی بات ہے۔‘
اس سے پہلے، البانیز نے فائرنگ کے بعد آسٹریلیا کی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا، جسے رائل کمیشن کا حصہ بنایا جائے گا۔
وہ اس حملے کے جواب میں قوانین سخت کرنے اور نفرت انگیز بیانات دینے والوں کو جرم قرار دینے کے لیے بھی قانون سازی کا منصوبہ رکھتے ہیں، کیونکہ حکومت کے مطابق اکثر ایسے بیانات قانونی کارروائی کے معیار پر پورے نہیں اُترتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا انتھونی البانیز سڈنی سیکیورٹی نوید اکرم ہنوکا یہودی یہودی مخالف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا انتھونی البانیز سیکیورٹی نوید اکرم ہنوکا یہودی یہودی مخالف یہودی مخالف البانیز نے واقعے کے کے لیے
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔