آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے یہودیوں کے خلاف تعصب کے معاملے کی تحقیقات کے لیے وسیع پیمانے پر قومی انکوائری کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان اس واقعے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا جس میں 2 مسلح افراد نے بونڈائی بیچ پر ایک یہودی تعطیلاتی تقریب پر فائرنگ کر کے 15 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

انکوائری رائل کمیشن کی شکل میں ہوگی، جو آسٹریلیا میں منعقد کی جانے والی سب سے بڑی اور آزاد عوامی تحقیقات میں سے سب سے اہم نوعیت کی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

البانیز نے جمعرات کو کیمپرا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی قیادت سابق ہائیکورٹ جج ورجینیا بیل کریں گی۔

البانیز کے مطابق، یہ انکوائری عام طور پر یہودی مخالف رجحانات کی نوعیت، وسعت اور محرکات کے ساتھ ساتھ بونڈائی میں ہونے والے بڑے فائرنگ واقعے کے حالات کی بھی تحقیقات کرے گی۔

اس کے علاوہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سفارشات، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے، اور انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے طریقے بھی تجویز کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں:

رپورٹ 14 دسمبر تک پیش کی جائے گی، جو اسی دن ہوگی جب ایک سال قبل سڈنی کے ایک معروف مقام پر ہنوکا کی تقریب کے دوران یہ فائرنگ واقع ہوئی تھی۔

البانیز نے مذکورہ حملے کو ایک یہودی مخالف دہشت گردانہ حملہ قرار دیا تھا، جو آسٹریلوی یہودیوں کو نشانہ بنانے کے لیے آئسس سے متاثر ہو کر کیا گیا، آسٹریلوی سر زمین پر اب تک کا سب سے مہلک حملہ تھا۔

اس واقعے کے زندہ بچ جانے والے 24 سالہ ملزم نوید اکرم کو قتل اور دہشت گردی سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے، وہ ابھی تک کوئی جوابدہی داخل نہیں کر سکا۔

مزید پڑھیں:

اس کے والد ساجد اکرم اس واقعے کے دوران پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا کہ سیاستدانوں، یہودی رہنماؤں اور دیگر عوامی شخصیات بشمول معروف کھلاڑیوں نے ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں ریاستی سطح کی انکوائری کے بجائے قومی رائل کمیشن کے انعقاد کا مطالبہ کیا تھا۔

البانیز نے پہلے کہا تھا کہ اس نوعیت کی وسیع پیمانے پر انکوائری زیادہ وقت لے سکتی ہے، لیکن جمعرات کو انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ وہ دباؤ میں آ کر اپنی رائے بدل گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:

’میں نے سنا، اور جمہوریت میں یہ ایک اچھی بات ہے۔‘

اس سے پہلے، البانیز نے فائرنگ کے بعد آسٹریلیا کی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا، جسے رائل کمیشن کا حصہ بنایا جائے گا۔

وہ اس حملے کے جواب میں قوانین سخت کرنے اور نفرت انگیز بیانات دینے والوں کو جرم قرار دینے کے لیے بھی قانون سازی کا منصوبہ رکھتے ہیں، کیونکہ حکومت کے مطابق اکثر ایسے بیانات قانونی کارروائی کے معیار پر پورے نہیں اُترتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آسٹریلیا انتھونی البانیز سڈنی سیکیورٹی نوید اکرم ہنوکا یہودی یہودی مخالف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا سٹریلیا انتھونی البانیز سیکیورٹی نوید اکرم ہنوکا یہودی یہودی مخالف یہودی مخالف البانیز نے واقعے کے کے لیے

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان