مقبوضہ بیت المقدستیز رفتار بس نے بنیاد پرست یہودی مظاہرین کو کچل دیا،ایک ہلاک،کئی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-01-7
غزہ /تل ابیب /مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے رومما میں سخت گیر یہودی فرقے (حریدی) کے ہزاروں مظاہرین ایک شاہراہ پر احتجاج کر رہے تھے۔اسی دوران حریدی علاقوں میں چلنے والی ایک تیز رفتار مسافر بس اچانک مظاہرین کے ہجوم میں داخل ہوگئی اور متعدد افراد کو کچل دیا۔ عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز کے مطابق بس ایک نوجوان کو کئی میٹر تک گھسیٹتی رہی۔ نجوان یوسف آئزن تھال بس کے نیچے پھنس گیا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ 3 دیگر افراد زخمی ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی
جا رہی ہے۔پولیس نے بس ڈرائیور کو حراست میں لیا۔ عبرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بس ڈرائیور نے اس واقعے سے کچھ دیر قبل ہی پولیس ہیلپ لائن پر مدد کی درخواست بھی کی تھی کہ اسے مشتعل ہجوم نے گھیرلیا ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زندگی پر اسرائیل کی امتیازی پالیسیوں کے بڑھتے ہوئے گھٹن زدہ اثرات پر خبردار کیا ہے اور کہا کہ یہ پالیسیاں اب واضح طور پر نسلی امتیاز کے نظام سے مشابہ ہو چکی ہیں۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں فلسطینیوں کے خلاف منظم امتیاز گزشتہ برسوں کے دوران خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے رپورٹ کے ساتھ منسلک بیان میں کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے حقوق کو منظم انداز میں کچلا جا رہا ہے۔ غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں قابض اسرائیلی بمباری سے زخمی ہونے والی ایک فلسطینی بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئی، جبکہ افواج کی جانب سے سیز فائر کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل اٹھاسی ویں روز بھی جاری رہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق شہید بچی کی شناخت فرح محمد شقفہ کے نام سے ہوئی ہے، جو چند روز قبل مواصی خان یونس کے علاقہ الاقلیمی میںاسرائیلی گولہ باری کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئی تھیں۔ بدھ کے روز بھی اسرائیلی افواج نے غزہ پٹی میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں، متعدد عمارتوں کو دھماکوں سے اڑا دیا اور مشرقی علاقوں میں فضائی حملے اور توپ خانے کی گولہ باری کی۔ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ قابض افواج نے غزہ شہر کے جنوب مشرق میں شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنا کر مسمار کیا۔فلسطین میں نسلی دیوار اور آبادکاری کے خلاف مزاحمتی ادارے کے سربراہ اور وزیر مؤید شعبان نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی حکومت نے جسے نام نہاد اسرائیلی اراضی اتھارٹی کہا جاتا ہے اس کے ذریعے مشرقی القدس مقبوضہ میں واقع E1 کے علاقے میں 3401 نئی صہیونی آبادکاری یونٹس کی تعمیر کے لیے ایک بڑا ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔بدھ کے روز جاری بیان میں مؤید شعبان نے واضح کیا کہ یہ قدم فلسطینی اراضی پر تیز رفتار صہیونی جارحیت کے نتائج کے اعتبار سے نہایت خطرناک پیش رفت ہے جو آبادکاری کے منصوبوں کے ذریعے انجام دی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکام نے فلسطینی اتھارٹی کے واجب الادا کلیئرنس فنڈز میں سے 149 ملین شیکل ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے، جو فلسطینی عوام کے معاشی حقوق پر ایک اور کھلا حملہ ہے۔ یہ اقدام اس پالیسی کے تحت کیا گیا ہے جس کے ذریعے اسرائیل فلسطینیوں پر اپنی سفاکانہ جارحیت کا خمیازہ خود مظلوم فلسطینی قوم سے وصول کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ رقوم ان اسرائیلی خاندانوں کو نام نہاد معاوضے کی ادائیگی کے لیے ہے جن کے افراد فلسطینی کارروائیوں میں مارے گئے یا زخمی ہوئے۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ریڈ کراس کے تعاون سے غزہ شہر کے مشرقی علاقے زیتون میں آخری باقی اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی تلاش دوبارہ شروع کر دی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ تلاش اسرائیلی پولیس کے ماسٹر سارجنٹ ران گوِلی کی لاش کے لیے کی جا رہی ہے، جو حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران کِبٹز الومیم کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔فلسطینی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس اہلکار کی لاش کو حماس کے جنگجو اپنے ہمراہ غزہ لے آئے تھے اور لاش کو مشرقی علاقے میں رکھا گیا تھا۔ بعد ازاں اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ کا مشرقی علاقہ مکمل طور پر کھنڈر بن گیا جس کے باعث لاش کہیں گم ہوگئی اور تلاش کی پہلی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک