ایران، رہبرِ مسلمین اور ہائی رسک آپشنز، طاقت کے دعوے اور حقیقت کی دیوار
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: رہبرِ مسلمین کے اغوا یا وینزویلا طرز کی کارروائی جیسے تصورات بیانیاتی سطح پر تو زور دار دکھائی دیتے ہیں مگر عملی دنیا میں Strategically Unsound، یعنی اسٹریٹجک طور پر ناقابلِ عمل اور Politically Explosive، یعنی سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہوتے ہیں، ایران کی اصل طاقت اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو یہ یقین دلاتا ہے کہ Cost of Action exceeds the Benefit، یعنی کسی بھی کارروائی کی قیمت اس کے ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہوگی۔ تحریر و تجزیہ: عرض محمد سنجرانی
عالمی سیاست میں بعض منصوبے ایسے ہوتے ہیں جن کا مقصد عملدرآمد نہیں بلکہ دباؤ پیدا کرنا ہوتا ہے، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف رجیم چینج، قیادت کو نشانہ بنانے یا وینزویلا طرز پر اغوا جیسے تصورات بھی اسی زمرے میں آتے ہیں، بظاہر یہ دعوے جارحانہ اور فیصلہ کن دکھائی دیتے ہیں مگر جب انہیں عسکری، سیاسی اور جیوپولیٹیکل حقیقت کے ترازو میں تولا جائے تو یہ زیادہ تر Psychological Pressure Tool، یعنی نفسیاتی دباؤ کا حربہ ثابت ہوتے ہیں، امریکا کی 1st Special Forces Operational Detachment Delta، جسے عام طور پر Delta Force کہا جاتا ہے، دنیا کی بہترین Special Operations Force سمجھی جاتی ہے اور ماضی میں محدود ریاستوں یا کمزور سیکیورٹی ماحول میں Surgical Operations، یعنی انتہائی محدود اور نشانہ بند کارروائیوں کی مثالیں دی جاتی ہیں، مگر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسی فورسز کی کامیابی کا انحصار Permissive Environment، یعنی سازگار سیکیورٹی ماحول پر ہوتا ہے، جہاں ریاستی ادارے کمزور ہوں، قیادت منقسم ہو اور اندرونی سطح پر حمایت میسر ہو۔
ایران اس تعریف پر پورا نہیں اترتا بلکہ ایران ایک Fortified Strategic State، یعنی قلعہ بند اسٹریٹجک ریاست ہے جہاں قیادت محض ایک فرد نہیں بلکہ Institutionalized Leadership، یعنی ادارہ جاتی قیادت کی صورت میں موجود ہے، رہبرِ مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ایک شخصیت ضرور ہیں مگر اصل طاقت Supreme Leadership System، یعنی اعلیٰ قیادی نظام میں مضمر ہے جو مذہبی، سیاسی اور عسکری اداروں کے مضبوط امتزاج پر کھڑا ہے، ایسے نظام میں Decapitation Strategy، یعنی قیادت کا سر کاٹنے کی حکمتِ عملی اکثر الٹا اثر دکھاتی ہے اور Rally Around the Flag Effect، یعنی بیرونی خطرے کے وقت قوم کا قیادت کے گرد متحد ہو جانا پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران میں کسی اعلیٰ شخصیت کے خلاف براہِ راست کارروائی ریاست کو کمزور کرنے کے بجائے زیادہ سخت اور مزاحم بنا سکتی ہے، بعض تجزیوں میں یہ پہلو بھی زیر بحث آتا ہے کہ ایران کے پڑوسی ممالک امریکا یا اسرائیل کو Logistical یا Intelligence Facilitation، یعنی لاجسٹک یا انٹیلیجنس سہولت کاری فراہم کر سکتے ہیں، مگر یہ تصور بھی زمینی حقائق سے متصادم ہے کیونکہ کسی پڑوسی ریاست کے لیے ایسی سہولت کاری Sovereignty Risk، یعنی خودمختاری کے شدید خطرے کے مترادف ہوگی، اس کے نتیجے میں Blowback Effect، یعنی الٹا اور خطرناک ردعمل ناگزیر ہوگا اور Regional Escalation، یعنی پورے خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کا امکان بڑھ جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ یہ سہولت کاری زیادہ تر Speculative Discourse، یعنی قیاسی گفتگو کی حد تک رہتی ہے اور عملی پالیسی میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی خودمختار ریاست کی اعلیٰ قیادت کے خلاف اغوا یا جبری کارروائی Act of War، یعنی جنگی اقدام تصور کی جاتی ہے، جس کے نتائج International Condemnation، یعنی عالمی مذمت، Uncontrolled Escalation، یعنی بے قابو کشیدگی اور Multi Front Conflict، یعنی کئی محاذوں پر تنازع کی صورت میں نکل سکتے ہیں، یہ تمام عوامل امریکا اور اسرائیل کے طویل مدتی مفادات کے خلاف جاتے ہیں، اسی لیے حقیقت میں ایران کے خلاف مغربی حکمتِ عملی کا محور Regime Change کے بجائے Containment Strategy، یعنی قابو میں رکھنے کی حکمتِ عملی، Deterrence Maintenance، یعنی بازدار صلاحیت کو برقرار رکھنا اور Internal Pressure Amplification، یعنی اندرونی دباؤ کو بڑھانا رہا ہے۔
ایران کی عسکری طاقت کا بنیادی ستون پاسدارانِ انقلاب ہے جو روایتی فوج سے کہیں زیادہ نظریاتی، منظم اور ریاستی نظام میں پیوست ہے اور Asymmetric Warfare Capability، یعنی غیر روایتی جنگی صلاحیت، Proxy Warfare Network، یعنی اتحادی گروہوں کے ذریعے اثرورسوخ اور Ballistic Missile Program، یعنی بیلسٹک میزائل پروگرام کے ذریعے Strategic Deterrence، یعنی دشمن کو حملے سے باز رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی مہم High Cost Military Scenario، یعنی انتہائی مہنگا عسکری منظرنامہ سمجھی جاتی ہے، نتیجتاً رہبرِ مسلمین کے اغوا یا وینزویلا طرز کی کارروائی جیسے تصورات بیانیاتی سطح پر تو زور دار دکھائی دیتے ہیں مگر عملی دنیا میں Strategically Unsound، یعنی اسٹریٹجک طور پر ناقابلِ عمل اور Politically Explosive، یعنی سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہوتے ہیں، ایران کی اصل طاقت اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو یہ یقین دلاتا ہے کہ Cost of Action exceeds the Benefit، یعنی کسی بھی کارروائی کی قیمت اس کے ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے ہوتے ہیں کہ ایران کے خلاف ہیں مگر ہے اور
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔