اسلام ٹائمز: رہبرِ مسلمین کے اغوا یا وینزویلا طرز کی کارروائی جیسے تصورات بیانیاتی سطح پر تو زور دار دکھائی دیتے ہیں مگر عملی دنیا میں Strategically Unsound، یعنی اسٹریٹجک طور پر ناقابلِ عمل اور Politically Explosive، یعنی سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہوتے ہیں، ایران کی اصل طاقت اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو یہ یقین دلاتا ہے کہ Cost of Action exceeds the Benefit، یعنی کسی بھی کارروائی کی قیمت اس کے ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہوگی۔ تحریر و تجزیہ: عرض محمد سنجرانی 

عالمی سیاست میں بعض منصوبے ایسے ہوتے ہیں جن کا مقصد عملدرآمد نہیں بلکہ دباؤ پیدا کرنا ہوتا ہے، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف رجیم چینج، قیادت کو نشانہ بنانے یا وینزویلا طرز پر اغوا جیسے تصورات بھی اسی زمرے میں آتے ہیں، بظاہر یہ دعوے جارحانہ اور فیصلہ کن دکھائی دیتے ہیں مگر جب انہیں عسکری، سیاسی اور جیوپولیٹیکل حقیقت کے ترازو میں تولا جائے تو یہ زیادہ تر Psychological Pressure Tool، یعنی نفسیاتی دباؤ کا حربہ ثابت ہوتے ہیں، امریکا کی 1st Special Forces Operational Detachment Delta، جسے عام طور پر Delta Force کہا جاتا ہے، دنیا کی بہترین Special Operations Force سمجھی جاتی ہے اور ماضی میں محدود ریاستوں یا کمزور سیکیورٹی ماحول میں Surgical Operations، یعنی انتہائی محدود اور نشانہ بند کارروائیوں کی مثالیں دی جاتی ہیں، مگر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسی فورسز کی کامیابی کا انحصار Permissive Environment، یعنی سازگار سیکیورٹی ماحول پر ہوتا ہے، جہاں ریاستی ادارے کمزور ہوں، قیادت منقسم ہو اور اندرونی سطح پر حمایت میسر ہو۔

ایران اس تعریف پر پورا نہیں اترتا بلکہ ایران ایک Fortified Strategic State، یعنی قلعہ بند اسٹریٹجک ریاست ہے جہاں قیادت محض ایک فرد نہیں بلکہ Institutionalized Leadership، یعنی ادارہ جاتی قیادت کی صورت میں موجود ہے، رہبرِ مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ایک شخصیت ضرور ہیں مگر اصل طاقت Supreme Leadership System، یعنی اعلیٰ قیادی نظام میں مضمر ہے جو مذہبی، سیاسی اور عسکری اداروں کے مضبوط امتزاج پر کھڑا ہے، ایسے نظام میں Decapitation Strategy، یعنی قیادت کا سر کاٹنے کی حکمتِ عملی اکثر الٹا اثر دکھاتی ہے اور Rally Around the Flag Effect، یعنی بیرونی خطرے کے وقت قوم کا قیادت کے گرد متحد ہو جانا پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران میں کسی اعلیٰ شخصیت کے خلاف براہِ راست کارروائی ریاست کو کمزور کرنے کے بجائے زیادہ سخت اور مزاحم بنا سکتی ہے، بعض تجزیوں میں یہ پہلو بھی زیر بحث آتا ہے کہ ایران کے پڑوسی ممالک امریکا یا اسرائیل کو Logistical یا Intelligence Facilitation، یعنی لاجسٹک یا انٹیلیجنس سہولت کاری فراہم کر سکتے ہیں، مگر یہ تصور بھی زمینی حقائق سے متصادم ہے کیونکہ کسی پڑوسی ریاست کے لیے ایسی سہولت کاری Sovereignty Risk، یعنی خودمختاری کے شدید خطرے کے مترادف ہوگی، اس کے نتیجے میں Blowback Effect، یعنی الٹا اور خطرناک ردعمل ناگزیر ہوگا اور Regional Escalation، یعنی پورے خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کا امکان بڑھ جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ یہ سہولت کاری زیادہ تر Speculative Discourse، یعنی قیاسی گفتگو کی حد تک رہتی ہے اور عملی پالیسی میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی خودمختار ریاست کی اعلیٰ قیادت کے خلاف اغوا یا جبری کارروائی Act of War، یعنی جنگی اقدام تصور کی جاتی ہے، جس کے نتائج International Condemnation، یعنی عالمی مذمت، Uncontrolled Escalation، یعنی بے قابو کشیدگی اور Multi Front Conflict، یعنی کئی محاذوں پر تنازع کی صورت میں نکل سکتے ہیں، یہ تمام عوامل امریکا اور اسرائیل کے طویل مدتی مفادات کے خلاف جاتے ہیں، اسی لیے حقیقت میں ایران کے خلاف مغربی حکمتِ عملی کا محور Regime Change کے بجائے Containment Strategy، یعنی قابو میں رکھنے کی حکمتِ عملی، Deterrence Maintenance، یعنی بازدار صلاحیت کو برقرار رکھنا اور Internal Pressure Amplification، یعنی اندرونی دباؤ کو بڑھانا رہا ہے۔

ایران کی عسکری طاقت کا بنیادی ستون پاسدارانِ انقلاب ہے جو روایتی فوج سے کہیں زیادہ نظریاتی، منظم اور ریاستی نظام میں پیوست ہے اور Asymmetric Warfare Capability، یعنی غیر روایتی جنگی صلاحیت، Proxy Warfare Network، یعنی اتحادی گروہوں کے ذریعے اثرورسوخ اور Ballistic Missile Program، یعنی بیلسٹک میزائل پروگرام کے ذریعے Strategic Deterrence، یعنی دشمن کو حملے سے باز رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی مہم High Cost Military Scenario، یعنی انتہائی مہنگا عسکری منظرنامہ سمجھی جاتی ہے، نتیجتاً رہبرِ مسلمین کے اغوا یا وینزویلا طرز کی کارروائی جیسے تصورات بیانیاتی سطح پر تو زور دار دکھائی دیتے ہیں مگر عملی دنیا میں Strategically Unsound، یعنی اسٹریٹجک طور پر ناقابلِ عمل اور Politically Explosive، یعنی سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہوتے ہیں، ایران کی اصل طاقت اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو یہ یقین دلاتا ہے کہ Cost of Action exceeds the Benefit، یعنی کسی بھی کارروائی کی قیمت اس کے ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کے ہوتے ہیں کہ ایران کے خلاف ہیں مگر ہے اور

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی