ایف آئی اے کی کارروائی، سمندری راستے سے ایران جانے کی کوشش ناکام، 24 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
کوئٹہ ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل گوادر کی کارروائی میں سمندری راستے سے ایران جانے کی کوشش ناکام بنادی گئی ہے اور 24 ملزمان گرفتار کرلیے گئے ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کمپوزٹ سرکل گوادر نے جیونی کے علاقے میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر سمندر کے راستے ایران جانے کی کوشش کرنے والے 24 افراد کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہے۔ ان میں سب سے زیادہ 12 افراد گوجرانوالہ، 3 راجن پور، 2 مظفر گڑھ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ باقی 7 ملزمان سرگودھا، قصور، گجرات، سیالکوٹ، ساہیوال، ملتان اور رحیم یار خان کے رہائشی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان پاکستان سے سمندری راستے کے ذریعے ایران جا رہے تھے اور ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ان کا ارادہ ایران سے آگے غیر قانونی طور پر دیگر ممالک جانے کا تھا۔
ایف آئی اے نے تمام ملزمان کے خلاف انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے الزامات تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔