فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد خطرے میں، عالمی ادارہ شدید بحران کا شکار، سیکڑوں ملازم فارغ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے انروا کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے، جس کے باعث سیکڑوں ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جنیوا سے جاری بیان کے مطابق ادارے نے رواں ہفتے 571 مقامی ملازمین کو فوری طور پر برطرف کرنے کی اطلاع دی ہے، جو غزہ سے باہر مقیم تھے۔ اس فیصلے نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے جاری امدادی سرگرمیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادارے کے ترجمان کے مطابق متاثرہ تمام ملازمین اصل میں غزہ کی پٹی میں خدمات انجام دے رہے تھے، تاہم اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد وہ کسی طرح علاقہ چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ مالی وسائل کی شدید قلت کے باعث انروا کے لیے ان ملازمین کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، جس کے نتیجے میں یہ سخت فیصلہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ انروا گزشتہ 7 دہائیوں سے غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے، لبنان، اردن اور شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت، خوراک اور بنیادی سہولیات فراہم کر رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اسرائیلی دباؤ اور مسلسل تنقید کے باعث ادارے کو ملنے والی رضاکارانہ عالمی امداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس نے ادارے کو تاریخ کے بدترین مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
ادارے کے مطابق گزشتہ سال انروا کے لازمی اخراجات تقریباً 880 ملین ڈالر تھے جب کہ عطیات کی مد میں صرف 570 ملین ڈالر موصول ہو سکے۔ اس بڑے مالی خلا نے نہ صرف ملازمین کی تنخواہوں بلکہ لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے جاری بنیادی پروگرامز کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو 2026 میں مالی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مزید ملازمین کی برطرفی اور امدادی پروگرامز میں کٹوتی ناگزیر ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انروا کو فوری اور پائیدار مالی معاونت کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینی پناہ گزینوں کو درپیش انسانی بحران کو مزید سنگین ہونے سے بچایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلسطینی پناہ گزینوں کے مطابق
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔