جنیوا: فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (UNRWA) نے شدید مالی بحران کے باعث سیکڑوں ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ادارے کے ترجمان کے مطابق رواں ہفتے 571 مقامی ملازمین، جو غزہ سے باہر مقیم تھے، ان کو فوری طور پر ملازمت سے علیحدہ کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔

ترجمان نے بتایا کہ متاثرہ تمام ملازمین اصل میں غزہ کی پٹی میں خدمات انجام دے رہے تھے، تاہم اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد وہ علاقہ چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں

آذربائیجان نے غزہ امن مشن میں فوج بھیجنے سے صاف انکار کر دیا

غزہ جنگ بندی کو بچانے کیلیے حماس کی آخری کوشش؛ اسرائیل کو بھاگنے نہیں دیں گے

اقوام متحدہ کا یہ ادارہ گزشتہ سات دہائیوں سے غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے، لبنان، اردن اور شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد اور بنیادی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں اسرائیلی تنقید اور دباؤ میں اضافے کے باعث UNRWA کو ملنے والی رضاکارانہ عالمی امداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے ادارہ شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

UNRWA کے مطابق گزشتہ سال ادارے کے لازمی اخراجات تقریباً 880 ملین ڈالر تھے، جبکہ عطیات کی مد میں صرف 570 ملین ڈالر موصول ہوئے۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو 2026 میں مالی خسارہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت