میں ایک امریکہ مخالف جوان ہوں
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: میں ایک جوان ہوں، اور جوانمردی کا شیوہ ہی یہ ہے کہ وہ وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر "حق" کہے۔ میں ظالم کا ہاتھ روکنے اور مظلوم کی ڈھال بننے کا عہد کر چکا ہوں۔ میرا مطالبہ محض زمین کا ٹکڑا یا چند مراعات نہیں، میرا مطالبہ عدلِ الٰہی ہے۔ جب تک صیہونی ریاست اور اس کی پسِ پردہ کارفرما خفیہ قوتیں انسانیت کا گلا گھونٹتی رہیں گی، تب تک ہر زندہ ضمیر جوان ان کا مخالف رہے گا، کیونکہ بیدار جوانوں کا ضمیر بکاؤ نہیں ہے۔ تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ
میں ایک جوان ہوں، اور جوانی کا پہلا تقاضا حق گوئی اور بے باکی ہے۔ مانا کہ آج کی دنیا کا رخ امریکہ کی طرف ہے، مانا کہ وہاں علم کے دریا بہتے ہیں، وہاں کی جامعات عقل کو جلا بخشتی ہیں، وہاں کی لیبارٹریوں میں زندگی کی نئی تصویریں بنتی ہیں اور وہاں کے روزگار کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔ ناسا کے ستارے ہوں، خلاؤں کی تسخیر ہو، یا انسانی کلوننگ جیسے حیرت انگیز تجربات یہ سب انسانی ذہن کی معراج سہی، ہالی ووڈ کا جادو اور میڈیا کی سحر انگیزی اپنی جگہ سہی، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا انسانی روح کی پیاس محض ان مادی کھلونوں سے بجھ سکتی ہے؟ میرا قلبِ سلیم، میرا ضمیر، اس چکا چوند کو دیکھ کر مرعوب ہونے کے بجائے مجھ سے چند سلگتے ہوئے سوالات پوچھتا ہے۔
جب میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے ان بے گناہ انسانوں کا تصور کرتا ہوں جن کی ہڈیاں امریکی ایٹم بم کی تپش میں پگھل گئیں، تو میرا لہو کھول اٹھتا ہے۔ کیسا انصاف تھا کہ ظلم کرنے والا خود منصف بن بیٹھا اور جاپان کے ہی حکمرانوں کو مجرم قرار دے کر سزا سنا دی؟ کوریا کی زمین سے لے کر عراق و افغانستان کی خاک تک، جہاں جہاں امریکی بوٹوں کی چاپ سنائی دی، وہاں وہاں صرف جبر کی داستانیں رقم ہوئیں۔
آج جب دنیا انسانی حقوق کا راگ الاپتی ہے، تو میرا رخ فلسطین کی جانب مڑ جاتا ہے۔ پچھتر سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا، صیہونی ریاست کی بربریت تھمنے کا نام نہیں لیتی۔ وہ معصوم بچے جو کڑاکے کی سردی میں چھت کے بغیر سسک رہے ہیں، ان کی آہوں کا ذمہ دار کون ہے؟ امریکہ کا وہ "ویٹو" جو ہر بار مظلوم کی گردن پر صیہونی چھری کو مزید تیز کر دیتا ہے، کیا یہی اس کی ترقی کا ثمر ہے؟
میرا دل تڑپ اٹھتا ہے جب میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغواء کی داستان پڑھتا ہوں۔ کس قانون کے تحت ایک خود مختار ریاست کے سربراہ کے بیڈروم میں شب خون مارا گیا؟ وہ سوتا ہوا جوڑا جس کی نیندیں ہتھکڑیوں کی آواز سے ٹوٹی ہوں گی، ان کا قصور کیا تھا؟ کیا صرف یہ کہ انہوں نے امریکی غلامی سے انکار کیا؟ لوگ کہتے ہیں امریکہ طاقتور ہے، اس کے پاس ٹیکنالوجی ہے، اس کے پاس پیسہ ہے۔ میں کہتا ہوں، میرے ضمیر کے نزدیک یہ سب "بے وقعت" اور "بے توقیر" ہے۔
جس تہذیب کی بنیادیں مظلوموں کے خون پر ہوں، جس کا راستہ لاشوں سے ہو کر گزرتا ہو، میں اس کی چمک سے مرعوب نہیں ہو سکتا۔ میں ایک جوان ہوں، اور جوانمردی کا شیوہ ہی یہ ہے کہ وہ وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر "حق" کہے۔ میں ظالم کا ہاتھ روکنے اور مظلوم کی ڈھال بننے کا عہد کر چکا ہوں۔ میرا مطالبہ محض زمین کا ٹکڑا یا چند مراعات نہیں، میرا مطالبہ عدلِ الٰہی ہے۔ جب تک صیہونی ریاست اور اس کی پسِ پردہ کارفرما خفیہ قوتیں انسانیت کا گلا گھونٹتی رہیں گی، تب تک ہر زندہ ضمیر جوان ان کا مخالف رہے گا، کیونکہ بیدار جوانوں کا ضمیر بکاؤ نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میرا مطالبہ جوان ہوں میں ایک
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :