Jasarat News:
2026-07-24@05:24:48 GMT

میرا برانڈ پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اس شخص نے بھاری سرمایہ کاری کی محنت کی فیکٹری لگائی، فیکٹری کو چلایا مال بنایا اور پھر ڈیلرز سے رابطہ کیا ڈیلرز نے مال دیکھا اور انکار کر دیا وجہ یہ بتائی کہ لوگ باہر کے مال کو خریدنا پسند کرتے ہیں حالانکہ باہر سے خریدا گیا مال اور اس میں کوئی خاص فرق نہ تھا بس چونکہ یہ پاکستان میں بنا ہوا تھا لہٰذا چند ایک کے سوا سب ڈیلرز نے خریدنے سے انکار کر دیا جن لوگوں نے خریدا تو انہوں نے بھی بہت کم۔۔۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان میں بنا ہوا مال وہ پاکستان میں بیچ نہیں سکتے۔ پاکستان کے عوام کی نفسیات کچھ ایسی ہے کہ وہ اپنے ملک میں بنے ہوئے مال کے بجائے باہر کی مصنوعات کو خریدنا پسند کرتے ہیں اور اس کے لیے زیادہ قیمت دینا بھی ان کو گوارا ہوتا ہے۔ سوچیں تبت جو کہ دہائیوں سے صابن بنا رہا ہے لیکن اس کو کتنے فی صد لوگ استعمال کرتے ہیں؟ اسی طرح کپڑے دھونے کے ڈیٹرجن صوفی، گائے سوپ عرصے سے بنا رہے ہیں اور معیاری بنا رہے ہیں لیکن پاکستان کے لوگ صرف ایکسل اور ایکسپریس سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں اب تو ان کمپنیوں نے ہلکی کوالٹی کے سن لائٹ اور بونس نکال لیے ہیں۔

عوام کو یہ معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اسرائیل کی پروڈکٹ ہے لیکن اس کے باوجود وہ یہ بات کہتے ہیں کہ اس سے دھلے کپڑوں کی تو بات ہی اور ہے اسی طرح خشک دودھ پاکستان میں بنتا ہے اور اچھا ہی بنتا ہے لیکن اس کے باوجود گھر گھر جو جو دودھ استعمال ہوتا ہے وہ ایوری ڈے اور نیڈو ہی ہے۔ مشروبات بہت سے پاکستانی برانڈ کے موجود ہیں لیکن عوام ٹرالیاں بھر بھر کر پیپسی اور سیون اپ گھر لے جاتے ہیں قیمت اور معیار پر سمجھوتے کے لیے ان کا ذہن تیار نہیں ہوتا وہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ پر آمادہ نہیں ہوتے۔ فلسطینی بچوں کا بہتا خون ان کو زبان کے ذائقے اور معیار کے مقابلے میں ہلکا لگتا ہے ہمیں سوچنا ہوگا کہ میری ذات میرا منافع میرا مفاد اور میرا ذائقہ اہم ہے یا میرا وطن میری قوم اور اس کی ترقی۔۔۔ ضروری ہے کہ اپنی ذات سے اُٹھ کر اپنی قوم کے بارے میں سوچیں۔۔۔ دنیا میں جب کوئی قوم بحرانوں اور مشکلات سے نکلتی ہے تو اس کا رویہ اس کی بنیاد بنتا ہے ہم ابھی تک اپنے وطن کے مفاد کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

چین کی بہت زیادہ مثالیں دی جاتی ہیں چین میں سام سنگ نے پہلا کارخانہ 2007 میں لگایا جہاں موبائل فون بنائے جانے لگے، 2012 میں چین کی مقامی مارکیٹ میں سام سنگ موبائل کی تیاری میں پہلے نمبر پر آچکا تھا۔ 2011 میں اس فیکٹری میں سات کروڑ فون بنائے گئے اور آہستہ آہستہ ان کی تعداد بڑھ کر 12 کروڑ سالانہ تک جا پہنچی اس فیکٹری کے لگنے سے سیکڑوں چینی کارخانوں کو خام مال فراہم کرنے کے آرڈر ملنے لگے اور ہزاروں لوگوں کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار ملا ایک بڑا فائدہ اس کا یہ ہوا کہ مقامی لوگوں نے فون بنانے کا ہنر سیکھا اگرچہ موبائل کمپنیوں ہواوے اور اوپو نے سال 2000 سے فون بنانے شروع کر دیے تھے لیکن ابھی ان کے فون کا معیار اور قیمت سام سنگ سے کم تھی لیکن اس کے باوجود مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں ان کا استعمال شروع کیا یعنی چینیوں نے مقامی کمپنیوں پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا کمپنیوں نے اس طرح منافع کمایا اور اس منافع سے اپنے معیار کو اور بہتر بناتے چلے گئے نتیجہ یہ ہوا کہ سام سنگ کا استعمال کم ہوا اب چین کی مارکیٹ میں سام سنگ کا حصہ صرف ایک فی صد رہ گیا ہے، لہٰذا 2020 میں چین میں موبائل فون بنانے کی سام سنگ کی آخری فیکٹری بھی بند کر دی اب نہ صرف چین کی مقامی مارکیٹ میں بلکہ ساری دنیا میں چینی برانڈز کے فون کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔

بیرونی سرمایہ کاری سے یوں ہی بنیاد بنتی ہے باہر سے آنے والے نئی ٹیکنالوجی لے کر آتے ہیں مقامی لوگ ان سے نئے ہنر سیکھ کر اپنی مصنوعات بناتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ وہ ان کے مقابل آ جاتے ہیں یا ان سے آگے نکل جاتے ہیں اسی لیے ہر ملک اپنے ہاں مصنوعات کی فیکٹری اور کارخانے لگانا چاہتا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ مقامی لوگوں کا رویہ اپنے مقامی پروڈکٹس کے لیے کتنا اہم ہے سوچیے اگر چینی اپنے برانڈز کو اہمیت نہ دیتے اور ان کی خریداری نہ کرتے تو کیا آج دنیا بھر میں ان کے موبائل فروخت ہوتے؟؟ لوگ کہتے ہیں کہ پوری دنیا میں آج پاکستان کا کوئی خاص برانڈ مشہور نہیں۔ تو جب ہم خود اپنے برانڈز کو اہمیت نہیں دیں گے ان کی پزیرائی نہیں کریں گے تو دنیا ان کو کیوں اہمیت دے گی؟؟

پچھلے دنوں ہونے والی نمائش میرا برانڈ پاکستان ملکی معیشت کو اْٹھانے،آئی ایم ایف سے چھٹکارے، اور خود انحصاری کی طرف بڑھنے کی کوشش ہے یہ کوشش پچھلے کئی سال سے پاکستان بزنس فورم اور جماعت اسلامی مل کے کر رہے ہیں یہ ایک کامیاب کوشش ہے، لیکن مقاصد میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ عوام اپنے برانڈ اور اپنی مصنوعات کو اہمیت دیں اور تاجر موقع پرست بننے کے بجائے عوام کے لیے بھی سوچیں تاکہ ملک آگے بڑھے ترقی کرے اور ہماری نسلیں قرض کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کریں۔

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں مقامی لوگ کو اہمیت لیکن اس چین کی اور اس کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ