data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اس شخص نے بھاری سرمایہ کاری کی محنت کی فیکٹری لگائی، فیکٹری کو چلایا مال بنایا اور پھر ڈیلرز سے رابطہ کیا ڈیلرز نے مال دیکھا اور انکار کر دیا وجہ یہ بتائی کہ لوگ باہر کے مال کو خریدنا پسند کرتے ہیں حالانکہ باہر سے خریدا گیا مال اور اس میں کوئی خاص فرق نہ تھا بس چونکہ یہ پاکستان میں بنا ہوا تھا لہٰذا چند ایک کے سوا سب ڈیلرز نے خریدنے سے انکار کر دیا جن لوگوں نے خریدا تو انہوں نے بھی بہت کم۔۔۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان میں بنا ہوا مال وہ پاکستان میں بیچ نہیں سکتے۔ پاکستان کے عوام کی نفسیات کچھ ایسی ہے کہ وہ اپنے ملک میں بنے ہوئے مال کے بجائے باہر کی مصنوعات کو خریدنا پسند کرتے ہیں اور اس کے لیے زیادہ قیمت دینا بھی ان کو گوارا ہوتا ہے۔ سوچیں تبت جو کہ دہائیوں سے صابن بنا رہا ہے لیکن اس کو کتنے فی صد لوگ استعمال کرتے ہیں؟ اسی طرح کپڑے دھونے کے ڈیٹرجن صوفی، گائے سوپ عرصے سے بنا رہے ہیں اور معیاری بنا رہے ہیں لیکن پاکستان کے لوگ صرف ایکسل اور ایکسپریس سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں اب تو ان کمپنیوں نے ہلکی کوالٹی کے سن لائٹ اور بونس نکال لیے ہیں۔
عوام کو یہ معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اسرائیل کی پروڈکٹ ہے لیکن اس کے باوجود وہ یہ بات کہتے ہیں کہ اس سے دھلے کپڑوں کی تو بات ہی اور ہے اسی طرح خشک دودھ پاکستان میں بنتا ہے اور اچھا ہی بنتا ہے لیکن اس کے باوجود گھر گھر جو جو دودھ استعمال ہوتا ہے وہ ایوری ڈے اور نیڈو ہی ہے۔ مشروبات بہت سے پاکستانی برانڈ کے موجود ہیں لیکن عوام ٹرالیاں بھر بھر کر پیپسی اور سیون اپ گھر لے جاتے ہیں قیمت اور معیار پر سمجھوتے کے لیے ان کا ذہن تیار نہیں ہوتا وہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ پر آمادہ نہیں ہوتے۔ فلسطینی بچوں کا بہتا خون ان کو زبان کے ذائقے اور معیار کے مقابلے میں ہلکا لگتا ہے ہمیں سوچنا ہوگا کہ میری ذات میرا منافع میرا مفاد اور میرا ذائقہ اہم ہے یا میرا وطن میری قوم اور اس کی ترقی۔۔۔ ضروری ہے کہ اپنی ذات سے اُٹھ کر اپنی قوم کے بارے میں سوچیں۔۔۔ دنیا میں جب کوئی قوم بحرانوں اور مشکلات سے نکلتی ہے تو اس کا رویہ اس کی بنیاد بنتا ہے ہم ابھی تک اپنے وطن کے مفاد کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
چین کی بہت زیادہ مثالیں دی جاتی ہیں چین میں سام سنگ نے پہلا کارخانہ 2007 میں لگایا جہاں موبائل فون بنائے جانے لگے، 2012 میں چین کی مقامی مارکیٹ میں سام سنگ موبائل کی تیاری میں پہلے نمبر پر آچکا تھا۔ 2011 میں اس فیکٹری میں سات کروڑ فون بنائے گئے اور آہستہ آہستہ ان کی تعداد بڑھ کر 12 کروڑ سالانہ تک جا پہنچی اس فیکٹری کے لگنے سے سیکڑوں چینی کارخانوں کو خام مال فراہم کرنے کے آرڈر ملنے لگے اور ہزاروں لوگوں کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار ملا ایک بڑا فائدہ اس کا یہ ہوا کہ مقامی لوگوں نے فون بنانے کا ہنر سیکھا اگرچہ موبائل کمپنیوں ہواوے اور اوپو نے سال 2000 سے فون بنانے شروع کر دیے تھے لیکن ابھی ان کے فون کا معیار اور قیمت سام سنگ سے کم تھی لیکن اس کے باوجود مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں ان کا استعمال شروع کیا یعنی چینیوں نے مقامی کمپنیوں پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا کمپنیوں نے اس طرح منافع کمایا اور اس منافع سے اپنے معیار کو اور بہتر بناتے چلے گئے نتیجہ یہ ہوا کہ سام سنگ کا استعمال کم ہوا اب چین کی مارکیٹ میں سام سنگ کا حصہ صرف ایک فی صد رہ گیا ہے، لہٰذا 2020 میں چین میں موبائل فون بنانے کی سام سنگ کی آخری فیکٹری بھی بند کر دی اب نہ صرف چین کی مقامی مارکیٹ میں بلکہ ساری دنیا میں چینی برانڈز کے فون کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔
بیرونی سرمایہ کاری سے یوں ہی بنیاد بنتی ہے باہر سے آنے والے نئی ٹیکنالوجی لے کر آتے ہیں مقامی لوگ ان سے نئے ہنر سیکھ کر اپنی مصنوعات بناتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ وہ ان کے مقابل آ جاتے ہیں یا ان سے آگے نکل جاتے ہیں اسی لیے ہر ملک اپنے ہاں مصنوعات کی فیکٹری اور کارخانے لگانا چاہتا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ مقامی لوگوں کا رویہ اپنے مقامی پروڈکٹس کے لیے کتنا اہم ہے سوچیے اگر چینی اپنے برانڈز کو اہمیت نہ دیتے اور ان کی خریداری نہ کرتے تو کیا آج دنیا بھر میں ان کے موبائل فروخت ہوتے؟؟ لوگ کہتے ہیں کہ پوری دنیا میں آج پاکستان کا کوئی خاص برانڈ مشہور نہیں۔ تو جب ہم خود اپنے برانڈز کو اہمیت نہیں دیں گے ان کی پزیرائی نہیں کریں گے تو دنیا ان کو کیوں اہمیت دے گی؟؟
پچھلے دنوں ہونے والی نمائش میرا برانڈ پاکستان ملکی معیشت کو اْٹھانے،آئی ایم ایف سے چھٹکارے، اور خود انحصاری کی طرف بڑھنے کی کوشش ہے یہ کوشش پچھلے کئی سال سے پاکستان بزنس فورم اور جماعت اسلامی مل کے کر رہے ہیں یہ ایک کامیاب کوشش ہے، لیکن مقاصد میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ عوام اپنے برانڈ اور اپنی مصنوعات کو اہمیت دیں اور تاجر موقع پرست بننے کے بجائے عوام کے لیے بھی سوچیں تاکہ ملک آگے بڑھے ترقی کرے اور ہماری نسلیں قرض کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں مقامی لوگ کو اہمیت لیکن اس چین کی اور اس کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔