لاہور: نجی یونیورسٹی میں طالبہ کا اقدام خودکشی:کسی فرد یا ادارے کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ایک طالبہ کے اقدامِ خودکشی کے کیس میں پولیس کی ابتدائی تفتیش مکمل ہو گئی ہے۔پولیس کی رپورٹ میں کسی فرد یا ادارے کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کو حفاظتی اقدامات بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے. جس میں کلاس رومز اور بلڈنگز میں حفاظتی شیشے اور جالیاں لگانا شامل ہے.
واضح رہے کہ واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ڈی فارمیسی کی طالبہ فاطمہ نے جامعہ کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا دی تھی جسے شدید زخمی حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تاحال زیر علاج ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی اور پھیپھڑوں کو شدید چوٹیں آئیں اور اس کے تمام ضروری طبی ٹیسٹ دوبارہ کیے گئے۔اسپتال کے پرنسپل اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر فاروق افضل نے منگل کو میڈیا کو بتایا تھا کہ فاطمہ کو ساڑھے بارہ بجے اسپتال لایا گیا جہاں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان کے مطابق طالبہ کی حالت پہلے سے کچھ بہتر ہے. لیکن اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں جن میں اس کی صحت یابی کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔امیرالدین میڈیکل کالج کے پرنسپل کے مطابق فاطمہ کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور اس کا بلڈ پریشر اور نبض معمول پر لانے میں کامیابی حاصل ہو گئی، تاہم اس کی ٹانگوں پر شدید چوٹیں ہیں جن کے لیے خصوصی طبی نگہداشت جاری ہے۔ میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ مکمل صحت یابی کے لیے مزید وقت اور نگرانی درکار ہوگی اور والدین کو ہر لمحہ صورتحال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔