بھارتی فورسز کی کٹھوعہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق بھارتی پیراملٹری اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اہلکاروں نے ضلع کے علاقے بلاور کے جنگل کے قریب گائوں گہوگ میں یہ کارروائی شروع کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں بھارتی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی پیراملٹری اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اہلکاروں نے ضلع کے علاقے بلاور کے جنگل کے قریب گائوں گہوگ میں یہ کارروائی شروع کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فوجی کارروائی کے دوران فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ قابض حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ علاقے میں فورسز کی مزید نفری بھیج دی گئی ہے اور گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری ہے۔ آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں آپریشن جاری تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔