سی ڈی اے کا اسلام آباد میں غیر قانونی ہاوسنگ اسکیموں کی ریگولرائزیشن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
سی ڈی اے کا اسلام آباد میں غیر قانونی ہاوسنگ اسکیموں کی ریگولرائزیشن کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 8 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)نے اسلام آباد میں قائم غیر قانونی ہاوسنگ اسکیموں اور بستیوں کو ریگولرائز کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔اس اقدام کا مقصد غیر قانونی بستیوں کو شہر کے باقاعدہ شہری دھارے میں شامل کرنا ہے۔سی ڈی اے کی جانب سے غیر قانونی بستیوں کی اپ گریڈیشن اور بحالی کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کرانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جس کے تحت اسلام آباد میں تقریبا دو لاکھ کنال رقبے پر قائم غیر قانونی بستیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
اتھارٹی غیر قانونی ہاوسنگ اسکیموں کو اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ بنانے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔اس سلسلے میں سی ڈی اے نے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کے لیے درخواستیں طلب کر لی ہیں اور باقاعدہ طور پر ریگولرائزیشن اور بحالی کے لیے آر ایف پی بھی جاری کر دیا گیا ہے۔سی ڈی اے کے مطابق فزیبلٹی اسٹڈی کی روشنی میں غیر قانونی بستیوں میں انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ وہاں رہائش پذیر افراد کو بہتر شہری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔یہ اقدام اسلام آباد کی غیر منظم آبادی کو منظم کرنے اور شہری مسائل کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایئر چیف کی سعودی عسکری قیادت سے ملاقات، دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ایئر چیف کی سعودی عسکری قیادت سے ملاقات، دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق بھارت کا دہشت گردی پر من گھڑت بیانیہ حقائق کو نہیں چھپاسکتا، ترجمان دفترخارجہ پی ٹی آئی رہنماوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں الزامات کا جواب دیدیا ڈنمارک کی سرمایہ کاری پاکستان میں سبز توانائی کو فروغ دے رہی ہے، سفیر ماجا ڈیروس مورٹنسن جدہ: انجینئر سجاد خان پاکستان انوسٹر فورم کے ڈپٹی سیکرٹری نامزد پمز ہسپتال میں پھپھڑوں کی بجائے جگر کی بائیوپسی، خاتون مریضہ کی مبینہ ہلاکت پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غیر قانونی ہاوسنگ اسکیموں اسلام آباد میں سی ڈی اے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم