بلوچستان میں گزشتہ سال دہشتگردوں کے خلاف 90 ہزار خفیہ آپریشنز، 700 سے زائد دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
بلوچستان میں گزشتہ سال دہشتگردوں کے خلاف 90 ہزار خفیہ آپریشن کیے گئے ہیںِ اس دوران 700 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ 400 سیکیورٹی اہلکار اور شہری بھی اس آپریشن کے دوران شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا، سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں رواں سال 955 دہشتگرد ہلاک
کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اعتزاز گورایہ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں اور حالیہ پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
خفیہ آپریشنز اور نقصانات کی تفصیلایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ گزشتہ برس بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مجموعی طور پر 90 ہزار خفیہ آپریشنز انجام دیے، جن کے دوران 700 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ تاہم ان کارروائیوں کے دوران 400 سیکیورٹی اہلکار اور شہری بھی شہید ہوئے، جو ایک بڑا قومی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس جنگ میں دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
دہشتگردی میں کمی اور نئی سیکیورٹی حکمت عملیحمزہ شفقات کے مطابق سال 2025 کے آخری تین ماہ کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو مؤثر سیکیورٹی حکمت عملی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں بڑا انسدادِ دہشتگردی آپریشن، مرکزی نیٹ ورک بے نقاب، خطرناک اسلحہ برآمد
انہوں نے بتایا کہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک نیا ادارہ نیفٹیک قائم کیا گیا ہے، جسے مارچ تک بلوچستان کے تمام اضلاع میں فعال کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پورے صوبے کو اے ایریا قرار دے دیا گیا ہے تاکہ نگرانی اور کارروائیوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اہم گرفتاری اور اسلحہ برآمدگیپریس کانفرنس میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ساجد احمد عرف شاویز نامی دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزم اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ اور تربت یونیورسٹی میں استاد بھی رہ چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کی گاڑی سے جدید اسلحہ، خودکش جیکٹ اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا، جو پنجگور سے تربت منتقل کیا جا رہا تھا، جبکہ اسلحہ ایران سے اسمگل ہو کر پاکستان لایا گیا تھا۔
کالعدم تنظیموں سے روابطاعتزاز گورایہ کے مطابق ساجد تربت کا رہائشی ہے اور ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ رہا ہے۔ وہ تربت میں ریکی، سہولت کاری اور دہشتگردی کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا، جبکہ افغانستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر دوستین سے بھی رابطے میں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آرمی کے خفیہ آپریشن جو دہشتگردی کے نیٹ ورک تباہ کر رہے ہیں
انہوں نے مزید بتایا کہ ساجد کا تعلق بلوچ یکجہتی کمیٹی سے بھی رہا اور وہ نوجوانوں کو شدت پسند تنظیموں میں شامل کرنے کے عمل میں سرگرم تھا۔
نوجوانوں میں شدت پسندی کا رجحانڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ تشویشناک امر یہ ہے کہ پڑھے لکھے افراد اور کم عمر نوجوان بھی شدت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق بی ایس او اور بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں مسلح تنظیموں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
کم عمر ملزمان کی گرفتاریانہوں نے بتایا کہ خاران سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ سرفراز کو، جو بی وائے سی سے وابستہ تھا، گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ جہانزیب عرف مہربان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جو بساکھ بروہی سے منسلک رہا اور نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف لے جانے میں کردار ادا کرتا رہا۔ ایک اور 18 سالہ نوجوان بہزل کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
لاجسٹک سہولتیں اور تشویشناک انکشافاتاعتزاز گورایہ نے انکشاف کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں کم عمر نوجوانوں کو نہ صرف اپنی کارروائیوں میں استعمال کرتی ہیں بلکہ ان سے پیسے، ادویات اور دیگر لاجسٹک سہولتیں بھی فراہم کروائی جاتی ہیں۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی سرجیکل ادویات دہشتگردوں تک پہنچ رہی ہیں، جس پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔
اصلاح اور بحالی کا عملانہوں نے کہا کہ گرفتار نوجوانوں کی اصلاح اور بحالی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ انہیں دوبارہ معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پولیس اور سی ٹی ڈی دہشتگردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ انتہاپسندی کے اسباب کو ختم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔
حکام کا عزمپریس کانفرنس کے اختتام پر حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام، دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آپریشن انٹیلی جنس بلوچستان پاک فوج پولیس دہشتگرد لیویز فورس وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹیلی جنس بلوچستان پاک فوج پولیس دہشتگرد لیویز فورس وفاقی حکومت اعتزاز گورایہ بلوچستان میں دہشتگردی کے نوجوانوں کو نے بتایا کہ کے دوران انہوں نے سی ٹی ڈی کے خلاف کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔