دہشتگردی کیخلاف مشترکہ ردعمل موثر بنائیں گے: پاکستان، چین
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
بیجنگ (نوائے وقت رپورٹ) وزیر داخلہ محسن نقوی کی چینی ہم منصب وانگ ژائو ہونگ سے ساڑھے تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی جس میں پاک چین دوطرفہ تعلقات اور انسداد دہشت گردی سے متعلق مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی چین کی وزارت پبلک سکیورٹی کے ہیڈ کوارٹر آمد ہوئی۔ چینی وزیر داخلہ وانگ ژائو ہونگ نے وفد کے ہمراہ پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ انسداد دہشت گردی، پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ملاقات میں مشترکہ ورکنگ گروپ کی ہر 3 ماہ بعد میٹنگ پر اتفاق ہوا جس کے تحت وزرائے داخلہ کی سطح پر ہر سال ایک بار ملاقات ہو گی۔ دونوں وزرائے داخلہ نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے کوآرڈینیشن بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ چینی وزیر داخلہ نے چینی شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی اور انکی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ چینی وزیر داخلہ نے انسداد دہشت گردی اور داخلی سکیورٹی سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ چینی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مشترکہ و فوری ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے ٹریننگ ایکسچینج پروگرام کا دائرہ کار بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اسلام آباد اور بیجنگ سسٹر سٹیز کے امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں وزراء کے درمیان پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تربیت کے ذریعے دونوں ممالک کی پولیس اور اداروں کے درمیان تجربات اور معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ وزیر داخلہ نے چینی باشندوں کی سکیورٹی کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی چینی وزیر داخلہ پر اتفاق داخلہ نے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔