کویت: عدالت نے منشیات اسمگلنگ سے منسلک دو بھارتی شہریوں کو سزائے موت سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کویت کی فوجداری عدالت نے منشیات اسمگلنگ کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک سے منسلک دو بھارتی شہریوں کو سزائے موت سنا دی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا کہ دونوں ملزمان ایک بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھے جو کویت سے باہر کام کر رہا تھا۔
ملزمان کو سیکیورٹی فورسز نے کویت کے کیفان اور شوایک علاقوں میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران رنگے ہاتھوں گرفتار کیا، ملزمان کے قبضے سے 14 کلوگرام ہیروئن اور 8 کلوگرام میتھ ایمفیٹامین برآمد ہوئی تھی، اس کے علاوہ، ان کے قبضے سے منشیات کو تولنے کے لیے استعمال ہونے والے الیکٹرانک ترازو اور دیگر ساز و سامان بھی ضبط کیے گئے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ جج خالد الطحوس کی سربراہی میں سنایا گیا، یہ گرفتاری ایک خصوصی آپریشن کا حصہ تھی جو منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کے تحت کی گئی تھی۔ اس آپریشن میں خفیہ معلومات اور مسلسل نگرانی کے بعد تفتیشی ٹیموں نے ملزمان تک پہنچا۔
کویت کے سخت منشیات قوانین اور اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت اس فیصلے کا مقصد جرائم کی روک تھام اور ملک میں امن و سکون کی فضا قائم کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: منشیات اسمگلنگ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ