وزیر اعلیٰ سندھ نے ریلوے منصوبوں کیلئے 6.6 ارب دینے کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ریلوے منصوبوں کے لیے 6.6 ارب دینے کی منظوری دے دی۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ملاقات کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ سندھ کے عوام کے لیے ریلوے کے جدید منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ سندھ کی 67 فیصد آبادی ریلوے کے نئے منصوبے سے مستفید ہوگی۔
حنیف عباسی نے کہا کہ روہڑی اسٹیشن پر عالمی معیار کی تزئین و آرائش کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے، وزارت ریلوے 6 جدید ٹرینوں کی سندھ حکومت کو تمام تفصیلات دے گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور سندھ حکومت کا یہ اشتراک پاکستان ریلوے کی تاریخ کا نیا باب ہوگا، سندھ کو ریلوے کا ایسا نظام دیں گے جو ماحول دوست ہوگا اور معاشی ترقی بھی ہوگی، سندھ حکومت کو ہر ممکن تکنیکی تعاون اور ’رائٹ آف وے‘ فراہم کریں گے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ مقصد سندھ کے دور دراز علاقوں کو جدید اور سستی سفری سہولیات سے جوڑنا ہے،ریلوے کا منصوبہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم کرے گا، ریلوے کے اس 858 کلومیٹر طویل نیٹ ورک کی بحالی کے لیے فنڈنگ پر غور کریں گے۔ پی پی حکومت انسانی جانوں کے تحفظ اور آرام دہ سفر کو اولین ترجیح سمجھتی ہے۔
ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ریلوے منصوبے میں شراکت داری کرنے پر سندھ حکومت اور وفاق میں اتفاق ہوا ہے، سندھ میں 858 کلومیٹر طویل ریلوے نیٹ ورک کو جدید بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بغیر پھاٹک والے 100 ریلوے کراسنگ محفوظ بنانے کے لیے 6 ارب روپے رکھنے کی تجویز پر اتفاق ہوا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کوٹڑی سے دادو، دادو سے لاڑکانہ، حیدرآبادسے میرپور خاص، روہڑی سے جیکب آباد اور حیدرآبادسے بدین سمیت 6 اہم روٹس کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔
سندھ حکومت 6 جدید ٹرین خریدنے پر غور کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ سندھ حکومت وزیر اعلی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔