تھرکول منصوبےکی پیشرفت رپورٹ، تکمیل سے بندرگاہ تک کوئلے کی رسائی آسان ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تھرکول منصوبے کی پیش رفت رپورت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے کی تکمیل سے بن قاسم پورٹ تک 9 کلو میٹر ٹریک کی توسیع سے بندرگاہ تک کوئلے کی رسائی آسان ہوگی، یہ منصوبہ 90 بلین روپے کی لاگت کا ہے اور حکومت سندھ اب تک 6.61 بلین روپے ادا کرچکی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو تھرکول منصوبے کی پیش رفت کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی اور ان کی ہدایت پر صوبائی سیکریٹری توانائی اور کمشنر میرپورخا ص نے عمرکوٹ (چھور) کا دورہ کیا اور ٹیم نے تھر کے کوئلے کی کانوں کو بن قاسم سے ملانے والی 105 کلومیٹر طویل ریلوے لائن پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم پروجیکٹ ہے، جس کا مقصد کوئلے کی مؤثر نقل و حمل سے پاکستان میں توانائی کی حفاظت کو تقویت دینا ہے، منصوبے کی تکمیل سے بن قاسم پورٹ تک 9 کلو میٹر ٹریک کی توسیع سے بندرگاہ تک کوئلے کی رسائی آسان ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائن کے قیام سے تھر کے کوئلے کی کانوں کو قومی ریلوے نیٹ ورک اور پورٹ قاسم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، اس طرح بنا کسی رکاوٹ کے کوئلے کی نقل و حمل ممکن ہوجائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ منصوبے پر سندھ اور وفاقی حکومتیں 50،50 فیصد فنڈز فراہم کریں گی، منصوبہ 90 بلین روپے کی لاگت کا ہے جبکہ حکومت سندھ اب تک 6.
وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان ریلوے اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے مضبوط تعاون کو سراہا۔
سیکریٹری توانائی نے کام کی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بروقت تکمیل کے لیے اسٹیک ہولڈرز اور مائننگ اینڈ پاور کمپنیوں کا تعاون ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ جتنی جلد مکمل ہوگا اس کے ثمر ات سے پورا ملک فیضیاب ہوگا۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل بلین روپے کوئلے کی کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘