ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی بینکنگ سیکٹر کی ایشیا پیسیفک میں شان دار کارکردگی رہی ہے اور ریجن میں سرفہرست 10 میں سے 6 بینک پاکستانی ہیں اور پاکستانی معیشت 10.5 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق ایشیا پیسیفک میں بہترین کارکردگی دکھانے والے سرفہرست 10 بینکوں میں سے 6 کا تعلق پاکستان سے ہے اور بینک آف پنجاب نے 2025 میں سرمایہ کاروں کو 333.

8 فیصد مجموعی منافع فراہم کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بینک آف پنجاب خطے میں منافع فراہم کرنے والے بینکوں میں پہلے نمبر پر رہا اور نیشنل بینک آف پاکستان 301.3 فیصد مجموعی منافع کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

بینکنگ سیکٹر کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ عسکری بینک نے 2025 میں 194.2 فیصد مجموعی منافع فراہم کیا، بینک آف خیبر نے 177.4 فیصد مجموعی منافع کے ساتھ مضبوط کارکردگی دکھائی، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے 3.8 ارب ڈالر مارکیٹ کیپ کے ساتھ 143 فیصد ریٹرن دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مکرمہ بینک نے 140 ملین ڈالر مارکیٹ کیپ کے ساتھ 119 فیصد ریٹرن فراہم کیا، فیصل بینک نے 500 ملین ڈالر مارکیٹ کیپ کے ساتھ 115 فیصد مجموعی منافع فراہم کیا۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے بتایا کہ کے ایس ای-100 انڈیکس مسلسل تیسرے سال تیزی کے ساتھ 2025 میں انڈیکس 51.2 فیصد رہا اور پاکستانی اسٹاک مارکیٹ تاریخی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 2025میں پاکستان کی معیشت 10.5 فیصد کی شرح سے بڑھی اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے مطابق پاکستان کی معیشت 2025 میں 10.5 فیصد ترقی کر گئی ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے بتایا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور 2024 کے مقابلے میں مہنگائی 12.6 فیصد سے گھٹ کر 3.2 فیصد رہ گئی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصد مجموعی منافع میں بتایا گیا منافع فراہم فراہم کیا کے ساتھ

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ