سردیوں کی راتوں میں کھجوریں کھانا فائدہ مند یا نقصان دہ؟ ماہرین صحت کی رائے جانیے
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
سرد موسم میں کھجور کو ایک قدرتی سپر فوڈ کی حیثیت حاصل ہے، جو نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے بلکہ جسم کو توانائی، حرارت اور بیماریوں سے بچاؤ بھی فراہم کرتی ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق سردیوں کے دوران کھجور کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا مجموعی صحت کے لیے بے حد مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک ماہ تک ہر رات سونے سے پہلے تین کھجوریں کھائی جائیں تو جسم پر اس کے نمایاں اور مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
کھجور میں موجود قدرتی شکر جیسے گلوکوز اور فرکٹوز فوری توانائی فراہم کرتے ہیں اور میٹابولزم کو تیز کر کے جسم کو اندر سے گرم رکھتے ہیں، جو سردیوں میں خاص طور پر فائدہ مند ہے۔
کھجور خون کی کمی دور کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں موجود آئرن ہیموگلوبن کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے، جس سے کمزوری، سستی اور تھکن جیسی شکایات میں کمی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دن بھر توانائی کی کمی محسوس کرنے والے افراد کے لیے کھجور ایک قدرتی طاقت بخش غذا سمجھی جاتی ہے۔
سردیوں میں نزلہ، زکام اور فلو جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں، ایسے میں کھجور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ کھجور میں موجود میگنیشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو انفیکشن سے بچاتے ہیں اور سانس کی نالی سے متعلق بیماریوں کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کھجور کو ورزش سے تقریباً 30 سے 60 منٹ قبل یا رات کو سونے سے پہلے کھایا جا سکتا ہے۔ دو سے چار کھجوریں روزانہ کافی سمجھی جاتی ہیں۔ فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ معدے کو دیر تک بھرپور رکھتی ہیں، جس سے بھوک کم لگتی ہے اور وزن کنٹرول میں رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریض کھجور کو اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں، کیونکہ اس میں قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
صحت کے ماہرین کا مجموعی مشورہ یہی ہے کہ سردیوں میں کھجور کو خوراک کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ یہ کم قیمت ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بے شمار فوائد رکھتی ہے اور جسم کو موسم کی سختیوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں کھجور کھجور کو جسم کو
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں