جسم کو قدرتی طور پر ڈیٹاکس کرنے میں کیسے مدد دی جائے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اگر آپ تہواروں کے دوران زیادہ کھا پی لیتے ہیں تو ممکن ہے اب جسم کو ’ڈیٹاکس‘ کرنے کے بارے میں سوچتے ہوں گے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کہتے ہیں کہ ہمارا جسم پہلے ہی قدرتی طور پر خود کو صاف کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے تاہم ہمیں صرف اس عمل میں مدد دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق جسم کو ڈیٹاکس کرنے کے لیے درج ذیل سائنسی طور پر ثابت شدہ طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
زیادہ فائبر استعمال کریںزیادہ تر لوگ روزانہ مطلوبہ مقدار سے بہت کم فائبر استعمال کرتے ہیں حالانکہ فائبر جسم کی صفائی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
فائبر آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے، فضلے کو نرم کرتا ہے اور نقصان دہ مادوں کے جسم میں قیام کا وقت کم کر دیتا ہے۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ فائبر زہریلے مادوں، بھاری دھاتوں اور فاضل بائل ایسڈز کو اپنے ساتھ باندھ کر جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے کولیسٹرول کم اور دل کی بیماریوں کا خطرہ گھٹتا ہے۔ فائبر جگر اور گردوں کو بھی نقصان دہ بیکٹیریا سے بچاتا ہے۔
فائبر کے بہترین ذرائع میں دالیں، چنے، لوبیا، سبز پتوں والی سبزیاں، خشک خوبانیاں، سیب، بیریز، گری دار میوے، بیج، دلیہ، ہول ویٹ روٹی اور پاستا شامل ہیں۔
مختلف اقسام کے فائبر کے فوائد حاصل کرنے کے لیے خوراک میں تنوع ضروری ہے۔
زیادہ پانی پیئیںپانی گردوں اور جگر کو فضلہ اور زہریلے مادے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پانی کی کمی سے جسم میں فاضل مادے جمع ہو سکتے ہیں اور وقت کے ساتھ گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روزانہ تقریباً ڈیڑھ سے پونے 2 لیٹر پانی یا دیگر صحت بخش مشروبات (چائے، کافی، کم چکنائی والا دودھ) کافی ہوتے ہیں۔ مناسب مقدار میں پانی پینا گردے کی پتھری کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔
پھیپھڑوں کا خیال رکھیںمارکیٹ میں پھیپھڑوں کو جلدی صاف کرنے کے دعوے کرنے والی کئی مصنوعات موجود ہیں مگر ماہرین انہیں غیر مؤثر بلکہ بعض اوقات خطرناک قرار دیتے ہیں۔
پھیپھڑوں کی صفائی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آلودگی سے بچا جائے۔ سگریٹ یا ویپنگ ترک کرنا سب سے اہم قدم ہے جبکہ دوسروں کے دھوئیں سے بھی بچنا چاہیے۔
گھریلو ہوا کو صاف رکھنے کے لیے تیز خوشبو والے اسپرے، موم بتیاں اور نقصان دہ کیمیکلز کے استعمال سے گریز کیا جائے۔
باقاعدہ ورزش خصوصاً تیز قدموں سے چلنا اور ایروبک ایکسرسائز، پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔
نیند کو ترجیح دیںنیند کے دوران دماغ خود کو صاف کرتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق سوتے وقت دماغ کے اردگرد ایک خاص سیال گردش کرتا ہے جو دن بھر جمع ہونے والے فاضل مادوں اور نقصان دہ پروٹینز کو خارج کر دیتا ہے۔
نیند کی کمی اس عمل کو متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں یادداشت، توجہ اور فیصلہ سازی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اکثر افراد کے لیے روزانہ تقریباً 7 گھنٹے کی نیند ضروری ہے اگرچہ یہ ضرورت فرداً فرداً مختلف ہو سکتی ہے۔
فٹ اور متحرک رہیںاگرچہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پسینے کے ذریعے زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں مگر سائنس اس دعوے کی حمایت نہیں کرتی۔
پسینہ دراصل جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
اصل میں ورزش جگر اور گردوں میں خون کی روانی بہتر بناتی ہے جس سے وہ زہریلے مادے زیادہ مؤثر طریقے سے فلٹر کر پاتے ہیں۔
ورزش جگر میں چربی کم کرنے اور گردوں کی کارکردگی برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
تیز واک، سائیکل چلانا، تیراکی، باغبانی، گھریلو کام یا سیڑھیاں چڑھنا بھی فائدہ مند ہیں۔ اہم بات مستقل مزاجی ہے نہ کہ وقتی جوش۔
مستقل طرز زندگی ہی اصل حلماہرین کے مطابق وقتی ڈیٹاکس ڈائٹس یا چند ہفتوں کے تجربات کے بجائے طویل المدتی صحت مند طرز زندگی زیادہ مؤثر ہے۔
متوازن غذا، مناسب ورزش، اچھی نیند اور اعتدال میں رہ کر کھانا پینا ہی جسم کو قدرتی طور پر صحت مند رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔
مختصر یہ کہ اگر آپ واقعی صحت بہتر بنانا چاہتے ہیں تو سائنسی بنیادوں پر مبنی عادات اپنائیں اور انہیں چند ہفتوں نہیں بلکہ مستقل طور پر زندگی کا حصہ بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسم کو کیسے ڈی ٹاکس کریں جسم کی صفائی زیادہ کھانا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسم کو کیسے ڈی ٹاکس کریں جسم کی صفائی زیادہ کھانا کے مطابق دیتا ہے کرنے کے کرتا ہے جسم کو کے لیے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔