ایشیا پیسیفک میں چھ پاکستانی بینک 2025 کے بہترین منافع کمانےوالے بینکوں میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کی جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں چھوٹے پاکستانی بینکوں نے ایشیا پیسیفک میں بینکنگ سیکٹر میں سب سے زیادہ منافع کمانے والے بینکوں میں شامل ہیں اور سرمایہ کاروں کو سب سے زیادہ مجموعی منافع فراہم کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بینک آف پنجاب نے 2025 میں 333 اعشاریہ 8 فیصدمجمو عی منافع کمایا، جس کے باعث وہ خطے کے بہترین منافع حاصل کرنے والے بینکوں میں شامل رہا۔ نیشنل بینک آف پاکستان 301 اعشاریہ 3 فیصد مجموعی منافع کے ساتھ پاکستانی پینکوں میں دوسرے مقام پر جگہ بنائی جبکہ عسکری بینک لمیٹڈ 194 اعشاریہ 2 فیصد اور بینک آف خیبر 177 اعشاریہ 4 فیصد کے منافع کے ساتھ مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔
رپورٹ کے مطابق یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ جس کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 3 اعشاریہ 8 ارب امریکی ڈالر ہے، نے 143 فیصد ریٹرن ریٹ ریکارڈ کیا۔ مکرمہ بینک نے 140 ملین امریکی ڈالر کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کے ساتھ 119 فیصد ریٹرن ریٹ فراہم کیا، جبکہ فیصل بینک جس کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 500 ملین امریکی ڈالر ہے، نے 115 فیصد مجموعی منافع فراہم کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا بینچ مارک کے ایس ای-100 اسٹاک انڈیکس مسلسل تیسرے سال بڑھا، جس کی وجہ بہتر معاشی اشاریے، مالی نظم و نسق اور سیاسی استحکام رہا۔ انڈیکس نے 2025 میں 51 اعشاریہ 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا اور سال کے اختتام پر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مطابق 2025 میں پاکستان کی معیشت نے10 اعشاریہ 5 فیصد ترقی کی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 10 اعشاریہ 4 فیصد تھی۔ اسی طرح مہنگائی کی شرح تین اعشاریہ 2 فیصد رہی، جو 2024 میں 12 اعشاریہ 6فیصد تھی ۔
اعداد و شمار کے مطابق مارکیٹ انٹیلی جنس کے تجزیے میں شامل ٹاپ ٹین میں سے نصف سے زیادہ بینکوں کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن ایک ارب ڈالر سے کم تھی۔ جبکہ مجموعی طور پر ٹاپ ٹین بینکوں میں چھ بینک پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بینکوں میں کے مطابق
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر