زائرین کے سفر پر پابندی قابل مذمت، آئینی عدالت سے رجوع پر غور کرینگے، داؤد آغا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
کوئٹہ میں وفد سے ملاقات کے موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنماء سید داؤد آغا نے کہا کہ گزشتہ نو ماہ سے روڈ کے راستے زائرین کی آمدورفت پر غیر ضروری پابندی عائد کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن سید داؤد آغا نے نو ماہ سے زائرین کی بائی روڈ سفر پر پابندی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ زائرین کے مسائل جلد از جلد حل کئے جائیں۔ وگرنہ وفاقی حکومت کے غیر جمہوری اقدام کے خلاف آئینی عدالت سے رجوع کریں گے۔ آج کوئٹہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے علمدار روڈ آکے دفتر میں ایک وفد سے ملاقات میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے راستے زائرین کربلا کو جانے کی اجازت نہ دینا قابل تشویش امر ہے۔ گزشتہ نو ماہ سے روڈ کے راستے زائرین کی آمدورفت پر غیر ضروری پابندی عائد کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرے۔ سکیورٹی خدشات کے نام پر لوگوں کو زیارات مقدسہ سے روکنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ غریب زائرین ہوائی سفر کا خرچہ پورا کرنے کے استعداد نہیں رکھتے ہیں۔ ہم گزشتہ نو ماہ سے حکومتی فیصلے کے منتظر ہیں۔ حکومت عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات کے احترام کے پیش نظر کوئٹہ تفتان روٹس پر زائرین کے آمدورفت کو بحال کرے۔ ہم احتجاج کے بغیر معاملات کے خوشلوبی اور باہمی رضامندی سے حل کرنے کے قائل ہیں۔ سید داؤد آغا نے کہا کہ پابندیوں سے مسائل جنم لیں گے۔
سید داؤد آغا نے کہا کہ زیارات مقدسہ کے لئے جانا اور اپنے مذہبی رسومات کو پورا کرنا ہر مسلمان کا جمہوری بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت زائرین کے مسائل اور وقت و حالات کے نزاکت کو سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی سطح پر معاملات حل نہ کی گئی تو مجبورنا ہمیں زائرین کے اس بنیادی مسئلے کو لے کر آئینی وفاقی عدالت سے وفاقی حکومت کے اس غیر انسانی، غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدام کے خلاف رجوع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کو لے کر عوام پر تمام قومی شاہراہوں کو بند کرنا مسائل کا حل نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ زائرین کے نو ماہ سے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔