وفاقی حکومت کا ملک بھر کیلئے بجلی کا بنیادی ٹیرف برقرار رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
وفاقی حکومت نے ملک بھر کیلئے بجلی کا بنیادی ٹیرف برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق گھریلو صارفین کیلئے زیادہ سے زیادہ ٹیرف 47.69 روپے فی یونٹ برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
نیپرا کے مطابق ایک سے 100یونٹ تک پروٹیکٹڈ کا ٹیرف 10.54روپے پر برقرار رکھنے کی تجویز ہے جبکہ 101 سے 200 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف13.
نیپرا کے مطابق ایک سے 100یونٹ تک نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کا ٹیرف 22.44 روپے برقرار رکھنے کی تجویز ہے، اسی طرح ماہانہ101 سے 200 یونٹ تک کا ٹیرف28.91 روپے فی یونٹ برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
نیپرا کے مطابق ماہانہ201 سے 300 یونٹ کا ٹیرف 33.10 روپے پر برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
نیپرا کے مطابق ماہانہ301 سے 400 یونٹ کا ٹیرف 37.99 روپے پر برقرار رکھنے کی تجویز ہے جبکہ ماہانہ401 سے 500 یونٹ کا ٹیرف 40.22 روپے برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
نیپرا کے مطابق ماہانہ501 سے 600 یونٹ کا ٹیرف 41.62 روپے برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ ماہانہ601 سے 700 یونٹ کا ٹیرف 42.76 روپے پر برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
نیپرا کے مطابق ماہانہ 700 یونٹ سے زیادہ کا ٹیرف 47.69 روپے برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ ٹیکسوں کو ملا کر سلیب کے حساب سے فی یونٹ ٹیرف کی قیمت بڑھ جائے گی۔
نیپرا کے مطابق ماہانہ 50 یونٹ تک کے گھریلو لائف لائن صارفین کیلئے 3.95 روپے اور ماہانہ51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کیلئے ٹیرف 7.74 روپے برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
نیپرا کے مطابق اتھارٹی نے اپنا فیصلہ یکساں ٹیرف کی درخواست کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوایا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نیپرا کے مطابق یونٹ کا ٹیرف یونٹ تک
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔