پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کی غیر موجودگی میں حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے اور جیل میں رہتے ہوئے بات چیت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

یہ بھی پڑھیں: فواد چوہدری و دیگر کی سیاسی مذاکرات کے لیے کوششیں، پی ٹی آئی نے ’نمائشی ڈائیلاگ کمیٹی‘ قرار دیدیا

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ پارٹی کا مؤقف بالکل دوٹوک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی طاقت زبردستی ہمارے گھروں میں داخل ہو، حملے کرے اور پھر مذاکرات کی دعوت دے تو یہ قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے پہلے ایجنڈا دیا جائے اور بتایا جائے کہ کن نکات پر بات ہوگی، عمران خان کو ایک طرف رکھ کر باقی سب کے مذاکرات کا تصور ممکن نہیں۔

سلمان اکرم راجہ کے مطابق دسمبر 2024 سے جنوری 2025 کے دوران پارٹی کی خواہش تھی کہ عمران خان کو مذاکرات میں شامل کیا جائے مگر اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی 2023 کے واقعات اور 26 نومبر 2024 کے اسلام آباد مارچ پر عدالتی تحقیقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل نے دعویٰ کیا کہ منصوبہ یہ ہے کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات میں ووٹروں پر ہونے والے حملے کو دفن کر دیا جائے اور آگے بڑھا جائے، حالانکہ پارٹی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی آ رہی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، طارق فضل چوہدری

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں 12 جنوری کو ممکنہ مذاکرات کی تاریخ کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات سے متعلق مختلف آرا کی بات درست نہیں کیونکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان ایک ہی مؤقف پر ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ حالیہ منگل کو محمود خان اچکزئی اور علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھے اور دونوں نے ایک ہی بات کی کہ مذاکرات اسی وقت ہوں گے جب فیصلہ ساز یہ تسلیم کریں گے کہ عوام موجودہ نظام سے تنگ آ چکے ہیں، جہاں روزگار، صحت اور تعلیم تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ محمود خان اچکزئی اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے متعدد مقامات پر روکے گئے، کئی پی ٹی آئی کارکن گرفتار کیے گئے اور ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں جب سیاسی سرگرمی کے لیے معمولی سی جگہ بھی نہ دی جائے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات قبرستان یا جیل میں نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے سیاسی فضا اور گنجائش درکار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئی بامعنی مذاکرات کرنا چاہے گا تو عمران خان سے مشاورت کریں گے، پی ٹی آئی کا حکومتی پیشکش پر جواب

واضح رہے کہ 23 دسمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی تاہم اس بات پر زور دیا تھا کہ بات چیت صرف جائز معاملات پر ہوگی۔ بعد ازاں پی ٹی آئی نے عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں مذاکرات سے انکار کیا جبکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی۔

ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملک کے پانچ بڑے کرداروں کے درمیان اعتماد سازی سے سیاسی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے، جن میں وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، عمران خان اور ایک اور طاقتور فریق شامل ہے۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک امیر ڈوگر نے مطالبہ کیا کہ حکومت محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس اور عمران خان کی ملاقات کا بندوبست کرے تاکہ کسی مثبت راستے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا عمران خان مذاکرات وفاقی حکومت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سلمان اکرم راجا مذاکرات وفاقی حکومت محمود خان اچکزئی سلمان اکرم راجا عمران خان کی کہ مذاکرات نے کہا کہ پی ٹی آئی انہوں نے کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت