مذاکرات چاہتے ہیں تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروا دیں، بیرسٹر گوہر علی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اگر کوئی مذاکرات چاہتا ہے۔ تو پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائیں۔ بصورت دیگر حالات آگے کیسے بڑھیں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار صرف محمود خان اچکزئی کو دیا ہے۔ اور ملک میں واحد اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی ہے۔ جس کی کوئی مستقل مذاکراتی کمیٹی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے بشریٰ بی بی سے اہل خانہ کی ملاقات ہونی چاہیے۔ اور پھر بانی پی ٹی آئی سے پارٹی لیڈر شپ کی ملاقات۔ جو لوگ اپنی طرف سے مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، اس کی مذمت نہیں کی جاتی، مگر وہ اقدامات پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں ہوتے۔بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ انہوں نے قیدیوں سے ملاقات کی کوشش کی مگر اجازت نہیں دی گئی۔ میرے خیال میں مذاکرات ڈیڈ اینڈ کی طرف چلے گئے ہیں۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ اب واپسی کیسے ہو گی؟۔
اگر آج انتخابات ہوں تو 36 فیصد نوجوان پی ٹی آئی اور 33 فیصد ن لیگ کو ووٹ دیں گے، RAI کا سروے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر علی بانی پی ٹی پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔