مذاکرات چاہتے ہیں تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروا دیں، بیرسٹر گوہر علی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اگر کوئی مذاکرات چاہتا ہے۔ تو پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائیں۔ بصورت دیگر حالات آگے کیسے بڑھیں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار صرف محمود خان اچکزئی کو دیا ہے۔ اور ملک میں واحد اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی ہے۔ جس کی کوئی مستقل مذاکراتی کمیٹی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے بشریٰ بی بی سے اہل خانہ کی ملاقات ہونی چاہیے۔ اور پھر بانی پی ٹی آئی سے پارٹی لیڈر شپ کی ملاقات۔ جو لوگ اپنی طرف سے مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، اس کی مذمت نہیں کی جاتی، مگر وہ اقدامات پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں ہوتے۔بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ انہوں نے قیدیوں سے ملاقات کی کوشش کی مگر اجازت نہیں دی گئی۔ میرے خیال میں مذاکرات ڈیڈ اینڈ کی طرف چلے گئے ہیں۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ اب واپسی کیسے ہو گی؟۔
اگر آج انتخابات ہوں تو 36 فیصد نوجوان پی ٹی آئی اور 33 فیصد ن لیگ کو ووٹ دیں گے، RAI کا سروے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر علی بانی پی ٹی پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔