تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کا خاتمہ ضروری ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر عملدرآمد ہونا چاہیے اور پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف خیبرپختونخوا کی حکومت کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہے، دہشت گردی کے خلاف ایکشن کے لیے متعلقہ فورم پر رجوع کیا جانا چاہیے اور پی ٹی آئی نے ہمیشہ اس جنگ میں قیادت کی ہے، امید ہے کہ آئندہ پی ٹی آئی کے خلاف ایسی کوئی پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی۔
سلمان اکرم راجا نے بانی پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کے ہمدرد ہونے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی حمایت نہیں کرتی بلکہ معصوم شہریوں کے قتل کو غلط سمجھتی ہے، پی ٹی آئی عوام اور اداروں کے مابین خلیج کو ختم کر سکتی ہے اور جنگوں کی وجہ سے معیشت اور روزگار کے مواقع متاثر ہوئے ہیں، افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا ضروری ہے اور بغیر بانی پی ٹی آئی کے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔
اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا مقصد مضبوط ادارے اور فوج کا قیام ہے لیکن اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشنز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ پالیسی کامیاب نہیں ہوئی تو اسے بدلا جانا چاہیے، صوبے کو وفاق سے انصاف نہیں مل رہا اور ترقیاتی بجٹ میں کمی کی شکایت کی۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی سیاسی مداخلتوں کے خلاف پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے اور وہ عوامی یکجہتی اور آئین کی بالادستی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف پریس کانفرنس پی ٹی آئی ہے اور کہا کہ
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔