واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے امریکا کے دستبردار ہونے اور ان کی مالی معاونت ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ادارے امریکی قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں اور ان پر اخراجات کا کوئی واضح فائدہ نہیں ملتا۔

اعلان کے مطابق امریکا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین UN Women اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ UNFPA سے بھی علیحدگی اختیار کر رہا ہے، جو دنیا بھر میں صنفی مساوات، خواتین کے بااختیار بنانے، خاندانی منصوبہ بندی اور ماں و بچے کی صحت کے لیے کام کرتے ہیں۔ امریکا پہلے ہی گزشتہ سال UNFPA کی فنڈنگ میں نمایاں کمی کر چکا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی فہرست میں ایسے 35 بین الاقوامی ادارے بھی شامل ہیں جو اقوام متحدہ کا حصہ نہیں، جن میں انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج (IPCC)، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر نمایاں ہیں۔

اس کے علاوہ امریکا 31 اقوام متحدہ کے اداروں سے بھی نکل رہا ہے، جن میں اقوام متحدہ کا مرکزی موسمیاتی معاہدہ UNFCCC اور اقوام متحدہ کا جمہوریت فنڈ شامل ہیں۔

امریکا نے گزشتہ سال تین دہائیوں میں پہلی بار اقوام متحدہ کے عالمی ماحولیاتی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق یہ اقدام کثیرالجہتی اداروں، خصوصاً اقوام متحدہ، کے حوالے سے ٹرمپ کی دیرینہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جن پر وہ بارہا لاگت، شفافیت اور افادیت کے سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس اعلان پر باضابطہ ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے

پڑھیں:

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

نیویارک:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ