Jasarat News:
2026-07-24@07:35:38 GMT

ٹرمپ نے اقوام متحدہ سمیت 66 عالمی تنظیموں کی فنڈنگ روک دی

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے وابستہ درجنوں تنظیموں سے امریکا کی علیحدگی اور ان کی مالی معاونت ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کے تحت امریکا مجموعی طور پر 66 بین الاقوامی اور عالمی اداروں سے دستبردار ہو جائے گا، جن میں اقوام متحدہ کے اہم ذیلی ادارے اور عالمی سطح پر کام کرنے والی بااثر تنظیمیں شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیصلہ امریکی قومی مفادات کے تحفظ اور مالی ذمہ داریوں کے ازسرِنو جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کئی بین الاقوامی ادارے امریکی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں اور امریکا کو ایسے نظام کا حصہ نہیں رہنا چاہیے جو غیر مؤثر، مہنگا اور غیر شفاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ امریکا برسوں سے ان اداروں کو خطیر رقوم فراہم کرتا رہا ہے، لیکن بدلے میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ اسی بنیاد پر ٹرمپ انتظامیہ نے ان اداروں سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔

اس اعلان کے تحت امریکا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین  سے بھی الگ ہو رہا ہے، جو دنیا بھر میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ  سے بھی علیحدگی اختیار کی جا رہی ہے، جو 150 سے زائد ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت اور تولیدی حقوق سے متعلق منصوبوں پر کام کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق امریکا گزشتہ برس ہی UNFPA کی مالی معاونت میں نمایاں کمی کر چکا تھا، جسے اب مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جاری کردہ فہرست کے مطابق 35 ایسے ادارے بھی شامل ہیں جو براہ راست اقوام متحدہ کا حصہ نہیں ہیں۔ ان میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر عالمی سطح پر تحقیق کرنے والا بین الاقوامی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر جیسے اہم ادارے نمایاں ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان تنظیموں کی سرگرمیاں امریکی پالیسی ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

اس کے علاوہ امریکا 31 اقوام متحدہ کے اداروں سے بھی باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کرے گا، جن میں اقوام متحدہ کا مرکزی موسمیاتی معاہدہ)، اقوام متحدہ جمہوریت فنڈ اور زچہ و بچہ صحت کے منصوبوں پر کام کرنے والے ادارے شامل ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا نے گزشتہ سال 3 دہائیوں میں پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے سالانہ عالمی ماحولیاتی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی، جسے عالمی مبصرین نے ایک اہم علامتی قدم قرار دیا تھا۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ کی کثیرالجہتی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کے بارے میں دیرینہ بداعتمادی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی عالمی اداروں کی افادیت، اخراجات اور احتساب پر کھلے عام سوالات اٹھاتے رہے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ یہ ادارے اکثر امریکی عوام کے مفادات کی صحیح نمائندگی نہیں کرتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے بین الاقوامی کے مطابق

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا