امریکا کا 66 عالمی اداروں و تنظیموں سے علیحدگی اور فنڈنگ روکنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
امریکا کا 66 عالمی اداروں و تنظیموں سے علیحدگی اور فنڈنگ روکنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 8 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن: (آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا درجنوں بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی اختیار کرے گا، جن میں ایک اہم عالمی موسمیاتی معاہدہ اور خواتین کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ بھی شامل ہے، صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ادارے امریکی قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں، اس لیے ان سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق امریکہ 35 غیر اقوام متحدہ تنظیموں اور 31 اقوام متحدہ کے اداروں سے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے، ان میں اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج بھی شامل ہے، جسے دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بنیادی معاہدہ سمجھا جاتا ہے اور یہی 2015 کے پیرس ماحولیاتی معاہدے کی بنیاد ہے۔
امریکہ گزشتہ سال تین دہائیوں میں پہلی بار اقوام متحدہ کی سالانہ عالمی موسمیاتی کانفرنس میں بھی شریک نہیں ہوا تھا۔
ماحولیاتی تنظیم نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل کے صدر اور سی ای او منیش باپنا نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اس معاہدے سے الگ ہوتا ہے تو وہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج سے نکلنے والا پہلا ملک ہوگا، دنیا کے تمام ممالک اس معاہدے کا حصہ ہیں کیونکہ وہ نہ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی اخلاقی ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ ان مذاکرات میں شامل رہ کر بڑی معاشی پالیسیوں اور مواقع کو متاثر کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے ہیں۔
اس فیصلے کے تحت امریکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین، جسے یو این ویمن کہا جاتا ہے اور جو صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرتا ہے، اس سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا، اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ، یو این ایف پی اے سے بھی امریکہ نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی، زچگی اور بچوں کی صحت کے لیے سرگرم ہے۔
امریکا پہلے ہی گزشتہ سال یو این ایف پی اے کے لیے اپنی فنڈنگ میں کمی کر چکا ہے، میمو میں واضح کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی کا مطلب ان اداروں میں شرکت اور مالی تعاون کا خاتمہ ہوگا، صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی بیشتر اقوام متحدہ کے اداروں کے لیے رضاکارانہ امریکی فنڈنگ میں نمایاں کمی کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان کی جانب سے اس فیصلے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ اقدام صدر ٹرمپ کے کثیرالطرفہ اداروں کے حوالے سے طویل عرصے سے موجود تحفظات کی عکاسی کرتا ہے، وہ بارہا اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی افادیت، اخراجات اور جوابدہی پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ ادارے اکثر امریکی مفادات کا مؤثر تحفظ نہیں کرتے۔
اپنی دوسری مدت صدارت کے آغاز کے بعد سے صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے لیے امریکی فنڈنگ میں کمی کی کوششیں کیں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے علیحدگی اختیار کی، فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے لیے فنڈنگ روک دی اور اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو سے بھی نکلنے کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت اور پیرس موسمیاتی معاہدے سے نکلنے کے منصوبے بھی سامنے آ چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق جن دیگر اداروں سے امریکہ جلد از جلد علیحدگی چاہتا ہے، ان میں اقوام متحدہ کا تجارتی اور ترقیاتی کانفرنس، انٹرنیشنل انرجی فورم، اقوام متحدہ کا رجسٹر آف کنونشنل آرمز اور اقوام متحدہ کا پیس بلڈنگ کمیشن شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ ادارے ایسے نظریات کو فروغ دیتے ہیں جو امریکی خودمختاری اور معاشی طاقت سے متصادم ہیں، اس لیے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے ان پر خرچ کرنے کے بجائے دیگر مؤثر طریقوں سے استعمال کیے جانا بہتر ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام تمام بین الاقوامی تنظیموں، معاہدوں اور کنونشنز کے جائزے کا حصہ ہے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کہاں امریکی شمولیت اور فنڈنگ واقعی قومی ترجیحات اور مفادات کے مطابق ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفرحاد کوہکن مسلم لیگ (ق) ڈنمارک کے چیف کوآرڈینیٹر مقرر ہر 4 میں سے ایک پاکستانی غذائی عدم تحفظ کا شکار، بھوک غربت نہیں قومی ایمرجنسی بنتی جا رہی ہے: سروے رپورٹ آذربائیجان کے صدر نے غزہ میں فوج بھیجنے سے انکار کردیا وزیر داخلہ کی چینی ہم منصب سے ملاقات، انسداد دہشتگردی سے متعلق مشترکہ اقدامات پر گفتگو تیل وینزویلا کا لیکن اختیار امریکا کا؛ ٹرمپ کے بیان کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں کمی حکومت کی آئی ایم ایف پروگرام کے خدوخال میں اہم تبدیلیوں کیلئے مشاورت وزیراعظم کی زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے کیلیے اہم اقدامات کی ہدایاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سے علیحدگی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز