data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور:اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو موجودہ سیاسی جدوجہد میں ساتھ مل کر چلنے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔

 تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نواز شریف ماضی میں اسی جی ٹی روڈ کے ذریعے ریلی کی صورت میں لاہور آئے تھے اور  ووٹ کو عزت دو  کا نعرہ بلند کیا تھا، اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ایک بار پھر اسی موقف کو تقویت دیں۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اگر تمام جمہوری قوتیں متحد ہو جائیں اور آئین کی بالادستی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر آ جائیں تو نہ صرف عمران خان جیل سے باہر آئیں گے بلکہ ملک سیاسی استحکام کی طرف بھی بڑھے گا۔ انہوں نے پولیس اور دیگر ریاستی اداروں سے اپیل کی کہ وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں اور غیر آئینی احکامات ماننے سے گریز کریں۔

اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کسی ایک جماعت کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام میں موجود ناانصافی اور ظلم کے خاتمے کے لیے میدان میں نکلی ہے، آج ملک میں سرمایہ دار عدم تحفظ کے باعث سرمایہ باہر لے جا رہا ہے جبکہ غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو ملک گیر شٹر ڈاؤن اور احتجاجی اقدامات کیے جائیں گے اور حقیقی مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے جب آئین کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران محمود خان اچکزئی نے صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جسے عوام قانون کے مطابق منتخب کریں، حکمرانی کا حق بھی اسی کو ملنا چاہیے۔ اس موقع پر سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس اور دیگر اپوزیشن رہنما بھی موجود تھے۔

اس سے قبل اپوزیشن رہنماؤں اور پی ٹی آئی کے کارکنان کا قافلہ زمان پارک پہنچا، تاہم متعدد مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ راستے میں کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا جو جمہوری حق رائے دہی اور سیاسی سرگرمیوں کے خلاف ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن