تھیٹرز سے متعلق ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لاہور کی انتظامیہ نے پنجاب کونسل آف دی آرٹس کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے تھیٹرز سے متعلق ایس او پیز پر عملدرآمد کا حکم دے دیا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری مراسلے میں پنجاب کونسل آف دی آرٹس کو تھیٹرز میں ہونے والی خلاف ورزیوں پر نئی پالیسی نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے مراسلے میں واضح کیا کہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی پر اب صرف مشترکہ رپورٹ قابل قبول نہیں ہوگی اور اداکاروں یا تھیٹر انتظامیہ کو براہ راست نوٹس دینا بھی پالیسی کے خلاف ہوگا۔
مزید پڑھیںبھارت میں معروف گلوکار دیوالی کے لائیو کنسرٹ میں اسٹیج پر گرکر ہلاک
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی معاملے پر سینسر ریہرسل پینل اور مانیٹرنگ ٹیم کی مشترکہ رپورٹ لازمی ہوگی جبکہ خلاف ورزی کی رپورٹ ڈی سی آفس کو لازمی بھجوائی جائے گی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بغیر رپورٹ کسی کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کو سفارشات کے ساتھ رپورٹ بھیجنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
مراسلے میں پنجاب حکومت کی ہدایات پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے عندیہ دیا گیا ہے کہ تھیٹرز کے خلاف کارروائی بلاتفریق اور قانون کے مطابق کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مراسلے میں گیا ہے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔