Jasarat News:
2026-07-24@01:34:03 GMT

ٹرمپ: سامراجیت کے شکستہ کوٹھے کا نیا معمار

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260109-03-6

 

باباالف

وینزویلا کا تیل اب امریکا کے کنٹرول میں ہوگا۔ اور دنیا کو یہ تیل اب امریکا ہی فروخت کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان کا ایک ہی عنوان ہو سکتا ہے ’’طاقت کا اصول‘‘۔ جس کے سامنے خاموشی ہی بہترین حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ یورپ کے مہذب ترین لوگوں نے جس کا عریاں ترین مظاہرہ کیا ہے۔ باقی دنیا نے ان کی تقلید کی ہے۔ جب حقیقت لرزاں شعلوں کی صورت ہو، جو اپنے دامن کو بھی خاکستر کرسکتی ہو، تب ظالم کا ساتھ دینا ہی بہترین کارکردگی ہو سکتی ہے اگر وہ امریکا ہو۔ ویزویلا کے باب میں دنیا نے جس کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر روس اور یوکرین کا معاملہ ہو تب بیانیہ میں حقیقی قوت انسانی حقوق اور ریاستوں کی خود مختاری کو حاصل ہوجاتی ہے اور روس توسیع پسندی کا مجرم جس کے خلاف یورپ کا متحد ہونا ازبس لازم ہوجاتا ہے۔

سرمایہ داریت اور اس سے جڑی سامراجیت کی تاریخ یہ رہی ہے کہ پہلے وہ بیانیہ تخلیق کرتی تھی۔ کمزور کو کمتر بناکر اور دکھا کراس پر قبضے اور اس پر حکمرانی کو اخلاقی بناتی تھی۔ خود کو مہذب اور محکوم کو غیر مہذب کہہ کر مداخلت کو جائز قرار دیتی تھی۔ جس میں عالمی رائے عامہ، اقوام متحدہ، انسانی حقوق، جمہوریت کی بحالی، سفارت کاری اور غیر مہذب محکوم کو مہذب بنانا حاشیے میں نہیں مرکز میں موجود ہوتا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے سرمایہ داریت اور سامراجیت کو ان تکلفات سے نجات دلادی ہے۔

اب سرمایہ داریت اور سامراجیت طوائف کا وہ کوٹھا نہیں رہا جو اپنے گاہکوں کو عالمی رائے عامہ، اقوام متحدہ، انسانی حقوق، جمہوریت، سفارت کاری اور تہذیب وثقافت کے مجرے پیش کرتا تھا، گاہکوں کو سہلا سہلا کر تھپ تھپا کر لوٹتا تھا۔ ادارے، رپورٹیں، قراردادیں۔ صبر سے کام لیتا تھا۔ صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں اب سامراجیت اور سرمایہ داریت کو جو نئی صورت دی ہے اس کے بعد سامراجیت بحری قذاقوں کا وہ ٹولہ ہے جو فضولیات میں وقت ضائع نہیں کرتا۔ رضا مندی پر انحصار نہیں کرتا، احتجاج کو اہمیت نہیں دیتا۔

اب سرمایہ داریت نہ تہذیب کی دعوے دار ہے، نہ قانون کی پابند، نہ اخلاق کی محتاج۔ اب اس کا ایک ہی دعویٰ ہے، ایک ہی بیانیہ ہے ’’ہمارے پاس طاقت ہے اس لیے تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ اب تمہارا نہیں ہمارا ہے‘‘۔ صدر ٹرمپ نے سرمایہ دارانہ سامراج کو جھوٹے ڈھکوسلوں سے نجات دلاکر قذاقی اور ڈاکا زنی سے براہ راست منسلک کردیا ہے۔ وہ جواز گھڑنے میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ اخلاقی اور غیراخلاقی کی کھکیڑ میں پڑے بغیر ظلم کو طاقت ور کے لیے ناگزیر بنادیتے ہیں۔ ’’ہمارے پاس طاقت ہے اس لیے اب ہمیں حق حاصل ہے تمہاری دولت لوٹنے کا‘‘۔

صدر ٹرمپ طاقت کا ’’اعتراف‘‘ ہیں جو عالمی رائے عامہ کو اہم سمجھتے ہیں، نہ اخلاقی جواز کو، نہ قانونی پردے کو۔ طاقت خود ہی عالمی رائے عامہ ہے، خود ہی اخلاقی جواز اور خود ہی قانون۔ سرمایہ دارانہ سامراجیت اب خود کو نہ مہذب کہتی ہے اور نہ منصف، اب وہ خود کو صرف طاقت کہتی ہے۔ ایسی طاقت جو معانی سے آزاد ہے، قانون سے آزاد ہے، صرف تشدد سے مشروط ہے۔ ظالمانہ روایات کے شیطانی تقدس کو ٹرمپ نے ایک نئی ’’لسانی صفائی‘‘ دی ہے جس میں جارحیت کے لیے اب امریکا کو فوجیں اُتارنے کی ضرورت نہیں، داخلی خلفشار کے پاگل بیل کو شیشے کے گھر میں مشتعل کرنا ضروری نہیں بس باغی قیادت کو اغوا کرکے امریکا کے لیے قابل قبول قیادت مسلط کردی جائے اور بس۔ اس کے بعد جارحیت کو میڈیا ’’براہ راست کارروائی‘‘ سے تعبیر کرے گا، قانون شکنی کو ’’غیرروایتی فیصلوں‘‘ سے اور مظلوم کو ’’ناکام ریاست‘‘ سے۔ جس کے بعد اغوا بالجبر سب کے لیے یورپ کی طرح قابل قبول ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرکے محض قانون شکنی نہیں کی ہے، قانون سے زبان چھین لی ہے، قانون کی زبان تبدیل کردی ہے۔ منتشر دنیا میں اب بد معاشی ایک ثقافتی اسلوب ہے جوکیوبا، کولمبیا، میکسیکو، گرین لینڈ اور ایران تک وسیع ہوسکتا ہے جس پر عالمی قوانین لب کشائی کرسکتے ہیں اور نہ قانون کچھ بولنے پر قدرت رکھے گا۔ اب جو لغت مرتب ہورہی ہے اس میں اغوا، پابندی، دھمکی اور مداخلت کے معنی ہیں ’’امریکی قومی مفاد‘‘۔

صدر ٹرمپ بہت جلدی میں ہیں۔ اس لیے کہ جس سرمایہ دارانہ سامراجی نظام کے وہ آلہ کار ہیں، جس ورلڈ پاور کے وہ صدر ہیں، وہ تیزی سے ٹوٹ رہی ہے بکھر رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ نظام مکمل طور پر شکست وریخت کا شکار ہوجائے، امریکا ملٹی پولر دنیا میں گم ہوجائے، وہ اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک دنیا کے ممالک خود مختار اکائیاں نہیں ہیں امریکی مفادات کے حصول کے ممکنہ اہداف ہیں جس میں وینزویلا کے بعد کیوبا ایک امکان ہے، کولمبیا ایک انتباہ ہے، گرین لینڈ ایک سودا اور ایران درندگی کے لیے مثالی عنصر۔ پہلے سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کو زندہ رہنے کے لیے جھوٹ بولنا پڑتا تھا، دکھاوا کرنا پڑتا تھا صدر ٹرمپ نے اس نظام کو جھوٹ بولے بغیربھی زندہ رہنے کے گُر سکھا دیے ہیں۔

اب جو دنیا تشکیل پارہی ہے اس میں رہی سہی جھجک بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ اب عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے ویٹو کے تکلف کی بھی ضرورت نہیں، صدر ٹرمپ کے الفاظ اور ان کے لہجے کا اُتار چڑھائو فیصلہ کن ہے۔ عدالتوں کے ججوں کے نہیں طاقتوروں کے بیانات اہمیت رکھتے ہیں۔ اب یوکرین روس کا ہے اور تائیوان چین کا، غزہ اسرائیل کا ہے اور مقبوضہ کشمیر انڈیا کا۔ باقی ممالک بھی آزاد ہیں۔ قبضہ کرلو اگر کرسکتے ہو۔

اب قتل کرنے کے بعد شرمندہ ہونے کی ضرورت غیر ضروری ہے، جھوٹ گھڑنے میں بھی دماغ سوزی کرنے کی ضرورت نہیں۔ صاف کہو ’’ہاں میں نے اغوا کیا ہے، میں نے قتل کیا ہے، جو اکھاڑنا ہے اکھاڑلو‘‘۔ صدر ٹرمپ نے جو دنیا تخلیق کی ہے وہ اصول پر نہیں خوف پر چلتی ہے۔ دشمنوں کو ہی نہیں دوستوں اور اتحادیوں کو بھی خوف میں رکھنا، غیر یقینی میں رکھنا، کمزور رکھنا۔ دنیا میں کوئی ہے جو صدر ٹرمپ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرسکے؟

اب سرمایہ دارانہ نظام کو ایڈم اسمتھ کی، جان لاک کی، ڈیوڈ ریکارڈو کی، روسو کی اور فریڈ مین کی ضرورت نہیں جنہوں نے سرمایہ داریت کو پردوں کے پیچھے کام کرنے کے درس دیے، دروازے بند کرکے قتل کرنا سکھائے، ووٹ کے فریب کو جمہوریت کا حوالہ بنایا، طاقت کے اظہار سے پہلے کہانیاں گھڑنی سکھائیں، محکوموں کو تہذیب، ترقی اور قانون دینے کے چکمے وضع کیے، لوٹ مار اور سرمایہ کی بقا کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیاں، قرضے، منڈیاں اور خام مال پر زور دیا، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کو لازمی قراردیا۔ ان سب کے جواب میں صدر ٹرمپ کی ایک دھمکی زیادہ کارگر ہے۔ نہ لبرل ازم، نہ جمہوریت، نہ انسانی حقوق، نہ ریاستی اصول، بس ایک جملہ ایک اصول ’’ہم طاقت ور ہیں اس لیے ہم درست ہیں‘‘ ظلم کرنے میں وہ شرماتے نہیں ہیں، دروازے بند نہیں کرتے۔ دروازے توڑ کر، کیمرے آن کرکے، اعلان کرکے، ظلم کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے مفکرین اب طوائف کے کوٹھے کے وہ چوکیدار ہیں جو دخل نہیں دے سکتے، اندر جو کچھ بھی ہورہا ہو۔ اب صدر ٹرمپ سرمایہ دارانہ سامراجی نظام کے نئے معمار ہیں۔

بابا الف.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عالمی رائے عامہ سرمایہ دارانہ سرمایہ داریت ضرورت نہیں کی ضرورت کیا ہے ہے اور رہی ہے کے لیے اس لیے کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار