Jasarat News:
2026-06-02@22:15:15 GMT

ٹرمپ: سامراجیت کے شکستہ کوٹھے کا نیا معمار

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وینزویلا کا تیل اب امریکا کے کنٹرول میں ہوگا۔ اور دنیا کو یہ تیل اب امریکا ہی فروخت کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان کا ایک ہی عنوان ہو سکتا ہے ’’طاقت کا اصول‘‘۔ جس کے سامنے خاموشی ہی بہترین حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ یورپ کے مہذب ترین لوگوں نے جس کا عریاں ترین مظاہرہ کیا ہے۔ باقی دنیا نے ان کی تقلید کی ہے۔ جب حقیقت لرزاں شعلوں کی صورت ہو، جو اپنے دامن کو بھی خاکستر کرسکتی ہو، تب ظالم کا ساتھ دینا ہی بہترین کارکردگی ہو سکتی ہے اگر وہ امریکا ہو۔ ویزویلا کے باب میں دنیا نے جس کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر روس اور یوکرین کا معاملہ ہو تب بیانیہ میں حقیقی قوت انسانی حقوق اور ریاستوں کی خود مختاری کو حاصل ہوجاتی ہے اور روس توسیع پسندی کا مجرم جس کے خلاف یورپ کا متحد ہونا ازبس لازم ہوجاتا ہے۔

سرمایہ داریت اور اس سے جڑی سامراجیت کی تاریخ یہ رہی ہے کہ پہلے وہ بیانیہ تخلیق کرتی تھی۔ کمزور کو کمتر بناکر اور دکھا کراس پر قبضے اور اس پر حکمرانی کو اخلاقی بناتی تھی۔ خود کو مہذب اور محکوم کو غیر مہذب کہہ کر مداخلت کو جائز قرار دیتی تھی۔ جس میں عالمی رائے عامہ، اقوام متحدہ، انسانی حقوق، جمہوریت کی بحالی، سفارت کاری اور غیر مہذب محکوم کو مہذب بنانا حاشیے میں نہیں مرکز میں موجود ہوتا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے سرمایہ داریت اور سامراجیت کو ان تکلفات سے نجات دلادی ہے۔

اب سرمایہ داریت اور سامراجیت طوائف کا وہ کوٹھا نہیں رہا جو اپنے گاہکوں کو عالمی رائے عامہ، اقوام متحدہ، انسانی حقوق، جمہوریت، سفارت کاری اور تہذیب وثقافت کے مجرے پیش کرتا تھا، گاہکوں کو سہلا سہلا کر تھپ تھپا کر لوٹتا تھا۔ ادارے، رپورٹیں، قراردادیں۔ صبر سے کام لیتا تھا۔ صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں اب سامراجیت اور سرمایہ داریت کو جو نئی صورت دی ہے اس کے بعد سامراجیت بحری قذاقوں کا وہ ٹولہ ہے جو فضولیات میں وقت ضائع نہیں کرتا۔ رضا مندی پر انحصار نہیں کرتا، احتجاج کو اہمیت نہیں دیتا۔

اب سرمایہ داریت نہ تہذیب کی دعوے دار ہے، نہ قانون کی پابند، نہ اخلاق کی محتاج۔ اب اس کا ایک ہی دعویٰ ہے، ایک ہی بیانیہ ہے ’’ہمارے پاس طاقت ہے اس لیے تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ اب تمہارا نہیں ہمارا ہے‘‘۔ صدر ٹرمپ نے سرمایہ دارانہ سامراج کو جھوٹے ڈھکوسلوں سے نجات دلاکر قذاقی اور ڈاکا زنی سے براہ راست منسلک کردیا ہے۔ وہ جواز گھڑنے میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ اخلاقی اور غیراخلاقی کی کھکیڑ میں پڑے بغیر ظلم کو طاقت ور کے لیے ناگزیر بنادیتے ہیں۔ ’’ہمارے پاس طاقت ہے اس لیے اب ہمیں حق حاصل ہے تمہاری دولت لوٹنے کا‘‘۔

صدر ٹرمپ طاقت کا ’’اعتراف‘‘ ہیں جو عالمی رائے عامہ کو اہم سمجھتے ہیں، نہ اخلاقی جواز کو، نہ قانونی پردے کو۔ طاقت خود ہی عالمی رائے عامہ ہے، خود ہی اخلاقی جواز اور خود ہی قانون۔ سرمایہ دارانہ سامراجیت اب خود کو نہ مہذب کہتی ہے اور نہ منصف، اب وہ خود کو صرف طاقت کہتی ہے۔ ایسی طاقت جو معانی سے آزاد ہے، قانون سے آزاد ہے، صرف تشدد سے مشروط ہے۔ ظالمانہ روایات کے شیطانی تقدس کو ٹرمپ نے ایک نئی ’’لسانی صفائی‘‘ دی ہے جس میں جارحیت کے لیے اب امریکا کو فوجیں اُتارنے کی ضرورت نہیں، داخلی خلفشار کے پاگل بیل کو شیشے کے گھر میں مشتعل کرنا ضروری نہیں بس باغی قیادت کو اغوا کرکے امریکا کے لیے قابل قبول قیادت مسلط کردی جائے اور بس۔ اس کے بعد جارحیت کو میڈیا ’’براہ راست کارروائی‘‘ سے تعبیر کرے گا، قانون شکنی کو ’’غیرروایتی فیصلوں‘‘ سے اور مظلوم کو ’’ناکام ریاست‘‘ سے۔ جس کے بعد اغوا بالجبر سب کے لیے یورپ کی طرح قابل قبول ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرکے محض قانون شکنی نہیں کی ہے، قانون سے زبان چھین لی ہے، قانون کی زبان تبدیل کردی ہے۔ منتشر دنیا میں اب بد معاشی ایک ثقافتی اسلوب ہے جوکیوبا، کولمبیا، میکسیکو، گرین لینڈ اور ایران تک وسیع ہوسکتا ہے جس پر عالمی قوانین لب کشائی کرسکتے ہیں اور نہ قانون کچھ بولنے پر قدرت رکھے گا۔ اب جو لغت مرتب ہورہی ہے اس میں اغوا، پابندی، دھمکی اور مداخلت کے معنی ہیں ’’امریکی قومی مفاد‘‘۔

صدر ٹرمپ بہت جلدی میں ہیں۔ اس لیے کہ جس سرمایہ دارانہ سامراجی نظام کے وہ آلہ کار ہیں، جس ورلڈ پاور کے وہ صدر ہیں، وہ تیزی سے ٹوٹ رہی ہے بکھر رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ نظام مکمل طور پر شکست وریخت کا شکار ہوجائے، امریکا ملٹی پولر دنیا میں گم ہوجائے، وہ اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک دنیا کے ممالک خود مختار اکائیاں نہیں ہیں امریکی مفادات کے حصول کے ممکنہ اہداف ہیں جس میں وینزویلا کے بعد کیوبا ایک امکان ہے، کولمبیا ایک انتباہ ہے، گرین لینڈ ایک سودا اور ایران درندگی کے لیے مثالی عنصر۔ پہلے سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کو زندہ رہنے کے لیے جھوٹ بولنا پڑتا تھا، دکھاوا کرنا پڑتا تھا صدر ٹرمپ نے اس نظام کو جھوٹ بولے بغیربھی زندہ رہنے کے گُر سکھا دیے ہیں۔

اب جو دنیا تشکیل پارہی ہے اس میں رہی سہی جھجک بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ اب عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے ویٹو کے تکلف کی بھی ضرورت نہیں، صدر ٹرمپ کے الفاظ اور ان کے لہجے کا اُتار چڑھائو فیصلہ کن ہے۔ عدالتوں کے ججوں کے نہیں طاقتوروں کے بیانات اہمیت رکھتے ہیں۔ اب یوکرین روس کا ہے اور تائیوان چین کا، غزہ اسرائیل کا ہے اور مقبوضہ کشمیر انڈیا کا۔ باقی ممالک بھی آزاد ہیں۔ قبضہ کرلو اگر کرسکتے ہو۔

اب قتل کرنے کے بعد شرمندہ ہونے کی ضرورت غیر ضروری ہے، جھوٹ گھڑنے میں بھی دماغ سوزی کرنے کی ضرورت نہیں۔ صاف کہو ’’ہاں میں نے اغوا کیا ہے، میں نے قتل کیا ہے، جو اکھاڑنا ہے اکھاڑلو‘‘۔ صدر ٹرمپ نے جو دنیا تخلیق کی ہے وہ اصول پر نہیں خوف پر چلتی ہے۔ دشمنوں کو ہی نہیں دوستوں اور اتحادیوں کو بھی خوف میں رکھنا، غیر یقینی میں رکھنا، کمزور رکھنا۔ دنیا میں کوئی ہے جو صدر ٹرمپ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرسکے؟

اب سرمایہ دارانہ نظام کو ایڈم اسمتھ کی، جان لاک کی، ڈیوڈ ریکارڈو کی، روسو کی اور فریڈ مین کی ضرورت نہیں جنہوں نے سرمایہ داریت کو پردوں کے پیچھے کام کرنے کے درس دیے، دروازے بند کرکے قتل کرنا سکھائے، ووٹ کے فریب کو جمہوریت کا حوالہ بنایا، طاقت کے اظہار سے پہلے کہانیاں گھڑنی سکھائیں، محکوموں کو تہذیب، ترقی اور قانون دینے کے چکمے وضع کیے، لوٹ مار اور سرمایہ کی بقا کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیاں، قرضے، منڈیاں اور خام مال پر زور دیا، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کو لازمی قراردیا۔ ان سب کے جواب میں صدر ٹرمپ کی ایک دھمکی زیادہ کارگر ہے۔ نہ لبرل ازم، نہ جمہوریت، نہ انسانی حقوق، نہ ریاستی اصول، بس ایک جملہ ایک اصول ’’ہم طاقت ور ہیں اس لیے ہم درست ہیں‘‘ ظلم کرنے میں وہ شرماتے نہیں ہیں، دروازے بند نہیں کرتے۔ دروازے توڑ کر، کیمرے آن کرکے، اعلان کرکے، ظلم کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے مفکرین اب طوائف کے کوٹھے کے وہ چوکیدار ہیں جو دخل نہیں دے سکتے، اندر جو کچھ بھی ہورہا ہو۔ اب صدر ٹرمپ سرمایہ دارانہ سامراجی نظام کے نئے معمار ہیں۔

بابا الف.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عالمی رائے عامہ سرمایہ دارانہ سرمایہ داریت ضرورت نہیں کیا ہے ہے اور کے لیے اس لیے کے بعد رہی ہے

پڑھیں:

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا

سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی