اسلام آباد:

وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت شروع کیے گئے اقدامات میں منظم شفافیت کی کمی پالیسی کی پیش بینی کو متاثر کر سکتی ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور بنا سکتی ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کی گئی 240 صفحات پر مشتمل وزیراعظم کے اقتصادی نظم و نسق میں اصلاحات سے متعلق ایجنڈا رپورٹ میں اس بات کا بھی عہد کیا گیا ہے کہ ایس آئی ایف سی کے معاملات میں شفافیت لائی جائے گی۔

یہ رپورٹ گزشتہ ہفتے جاری کی گئی، جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ کے تحت ایکشن پلان کا حصہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے اقدامات، جن میں ایس آئی ایف سی کے ذریعے سہولت فراہم کی گئی سرمایہ کاری بھی شامل ہے، ان کے گرد منظم شفافیت کی عدم موجودگی معلوماتی عدم توازن پیدا کرتی ہے، جو پالیسی کی پیش بینی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

پاکستان نے 2023 میں ایس آئی ایف سی قائم کی تھی، جس کا مقصد سرمایہ کاری اور نجکاری کے لیے ایک سنگل ونڈو فراہم کرنا، مختلف سرکاری اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور منصوبوں کی تیز تر تکمیل کو یقینی بنانا تھا۔

اگرچہ ایس آئی ایف سی نے ادارہ جاتی رابطہ کاری کے مسائل حل کرنے اور بعض رکاوٹیں دور کرنے میں کردار ادا کیا تاہم بھاری ٹیکسوں، توانائی کی بلند قیمتوں، بیرونی شعبے کی کمزور استحکام اور مالی گنجائش کی کمی جیسے بڑے مسائل جوں کے توں رہے۔

ایس آئی ایف سی کو زراعت، دفاع، انفرااسٹرکچر، اسٹریٹجک منصوبوں، لاجسٹکس، معدنیات، آئی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشن، توانائی اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

تاہم اپنے ڈھائی سالہ دور میں یہ ادارہ اب تک کسی بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کو پاکستان لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔گزشتہ ماہ ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے متعدد مسائل کی نشاندہی کی تھی جو براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں

ایس آئی ایف سی کے تعاون سے قومی بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی کے نفاذ کا تاریخی اقدام

رپورٹ کے مطابق ٹیکس رعایتوں، پالیسی استثنائوں اور ضابطہ جاتی نرمیوں سے متعلق منظم انکشاف کے بغیر شراکت داروں کو اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی وجوہات، لاگت اور نتائج کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔

آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کے تحت حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایس آئی ایف سی سے متعلق سالانہ رپورٹ کا پہلا مسودہ رواں سال دسمبر تک جبکہ حتمی رپورٹ مارچ 2027 میں پیش کی جائے گی، جس سے ایس آئی ایف سی کے کردار کے بارے میں ابہام دور ہوگا۔

ایس آئی ایف سی کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اب تک ادارے نے کوئی ٹیکس رعایت یا استثنیٰ منظور نہیں کیا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق سالانہ رپورٹ میں ایس آئی ایف سی کے ذریعے سہولت یافتہ تمام سرمایہ کاری، منظور شدہ ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات، ان کی وجوہات، مالی لاگت کا تخمینہ اور منصوبوں کی پیش رفت شامل ہوگی۔

آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ ان اختیارات کے عملی نفاذ اور نگرانی کو سمجھنے کے لیے زیادہ شفافیت ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ اقدامات کارکردگی بہتر بنانے اور بیوروکریسی میں تاخیر کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم اس سے لین دین کے ممکنہ خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کمزوریوں کے ازالے کے لیے ادارہ جاتی شفافیت، سرمایہ کاری سے متعلق منظم معلومات کی باقاعدہ اشاعت اور آرٹیکل 10-ایف کے نفاذ پر واضح وضاحت ناگزیر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایس ا ئی ایف سی کے سرمایہ کاری رپورٹ میں گیا ہے کہ کے مطابق

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ