ناسا کا خلائی مشن قبل از وقت ختم
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا خلائی مشن جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ایک مشن پر کام کر رتھا، جو جلد واپسی پر غور و خوض شروع کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق امریکی خلائی ایجنسی ناسا اپنے عملے کی ناقص صحت کا مسئلہ جس کی نوعیت واضح نہیں کی گئی ہے ، جس کی بنا پر طے شدہ خلائی مشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ناسا کی ترجمان کا کہنا ہے کہ جس خلاباز کو صحت کا مسئلہ درپیش ہے، وہ اسٹیشن پر غیر مستحکم حالت میں ہے، تاہم اس کا نام نہیں بتایا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح مشن کو محفوظ طریقے سے انجام دینا ہے، ہم ہر ممکنہ آپشن کا جائزہ لے رہے ہیں، جس میں کرو11 مشن کو جلد ختم کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ کرو 11 عملے میں 4 خلاباز ہیں، جن میں2 امریکی،1 جاپانی اور 1 روسی ہے۔ مذکورہ عملہ اگست میں فلوریڈا سے روانہ ہوا تھا اور ان کی اصل واپسی کا وقت مئی تھا۔ ناسا کے خلابازوں کے مطابق اسٹیشن پر صحت کی حالت ایک حساس معاملہ ہے، جسے افشا نہیں کیا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔