سعودی وزیر خارجہ کی امریکی حکام سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سعودی وزیر خارجہ کی امریکی حکام سے ملاقات
ریاض: سعودی وزیر خارجہ نے واشنگٹن میںاپنے ہم منصب کئی اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ہم منصب مارکو روبیو سمیت کئی اعلیٰ حکام سے ہونے والی ملاقات میں میں باہمی دلچسپی کے امور پر اعلیٰ پیمانے پرتبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ مذکورہ کمیٹی کے سربراہ براہان سمیت اس کے رکن گیگوری میکس بھی ملاقات میں شامل تھے۔
اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مارکو روبیو کے ساتھ مل کر دونوں ملکوں کے تاریخی تزویراتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بات چیت کی۔ملاقات میں سعودی عرب و گرد و نواح کے مسائل کی تازہ ترین صورت حال پر بھی گفتگو کی۔ واضح رہے کہ امریکی دفتر خارجہ کے نائب ترجمان ٹامی پگاٹ کے مطابق ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کی تاکہ یمن اور سوڈان میں جنگ بندی کی کوششیں آگے بڑھ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملاقات میں حکام سے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔