پاکستان سپر لیگ، 2 نئی ٹیمیں حیدرآباد 175، سیالکوٹ 185 کروڑ روپے میں فروخت
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
لاہور+ اسلام آباد (سپورٹس رپورٹر) پاکستان سپر لیگ کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی کا عمل مکمل ہوا، جہاں ساتویں فرنچائز ایف کے ایس گروپ نے 175 کروڑ روپے میں خرید لی جبکہ آٹھویں فرنچائز کو اوزیڈ ڈویلپرز نے ریکارڈ 185 کروڑ روپے میں خرید لیا۔ پی ایس ایل میں دو نئی فرنچائز شامل کرنے کیلئے بولی کا عمل اسلام آباد جناح کنونشن میں ہوا۔ علی ترین گروپ نیلامی سے عین وقت پر دست بردار ہوگیا۔ 9 گروپس نیلامی میں شریک ہوئے۔ ساتویں فرنچائز کی نیلامی کیلئے اولین رقم ایک ارب 10 کروڑ روپے رکھی گئی۔ آئی ٹو سی گروپ کی جانب سے ایک ارب 55 کروڑ روپے کی بولی دی گئی، پرزم گروپ نے پانچ منٹ کے وقفے کے بعد مزید بولی بڑھانے سے معذرت کر لی۔ ایف کے ایس نے بولی میں 13 کروڑ کا اضافہ کیا جس پر بولی 1ارب 68 کروڑ تک پہنچ گئی۔ آئی ٹو سی نے نئی پی ایس ایل ٹیم کیلئے 1 ارب 70 کروڑ کی بولی لگا دی تاہم ایف کے ایس گروپ نے 1 ارب 75 کروڑ کی بولی لگا کر ساتویں فرنچائز کی نیلامی جیت لی اور اس فرنچائز کا نام حیدرآباد رکھنے کا اعلان کیا۔ پی ایس ایل کی آٹھویںٹیم کیلئے 170 کروڑ بیس لاکھ روپے پرائز رکھی گئی، آئی ٹو سی گروپ نے 172 کروڑ روپے کی آفر کی، جس کے جواب میں ایم نیکسٹ گروپ نے 173 کروڑ روپے کی پیشکش کر دی تاہم آئی ٹو سی نے اس کے بعد وقفہ لیا۔ ایم نیکسٹ نے وقفے کے بعد 176 کروڑ کی بولی لگا دی، اوزیڈ ڈویلپرز نے 178 کروڑ کی پیشکش کر دی۔ آئی ٹو سی نے 180 کروڑ روپے کی بولی لگادی جبکہ اوزیڈ ڈویلپرز نے وقفہ لے لیا اور واپسی پر 181 کروڑ روپے کی بولی لگا دی جبکہ آئی ٹو سی نے 182 کروڑ کی پیشکش کر دی۔ اوزیڈ ڈیولپرز نے بولی میں بڑی چھلانگ لگائی اور پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم کیلئے سب سے زیادہ 185 کروڑ روپے کی بولی لگا دی اور لیگ کی مہنگی ترین ٹیم خرید لی۔ ریکارڈ بولی کے حوالے سے اوزیڈ ڈویلپرز کے حمزہ مجید نے بتایا کہ پہلے سے منصوبہ بندی تھی لیکن فیصلہ عین وقت پر ہوا، ایک بجٹ تھا لیکن بجٹ ذرا اوپر گیا لیکن ہمیں جیت کر جانا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم کا نام سیالکوٹ ہو گا۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن رضا نقوی نے ساتویں فرنچائز ایف کے ایس گروپ اور اوزیڈ ڈویلپرز کے حمزہ مجید کو آٹھویں ٹیم کی چابی تھما دی۔ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کی تاریخ کی سب سے بڑی نیلامی ہوئی۔ عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پاکستان میں کرکٹ ترقی کر رہی ہے، یہ کامیابی صرف پی سی بی کی نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی ہے۔ نیلامی معمولی نہیں تھی یہ پاکستان میں سرمایہ کاری پر اعتماد ہے، یہ کوئی معمولی رقم نہیں ہے یہ عوام کا کرکٹ سے لگاؤ اور محبت کی عکاس ہے۔ پی ایس ایل کی ساتویں اور آٹھویں ٹیم دس سال معاہدے کے تحت نیلام کی گئیں۔ ٹیمیں سالانہ فیس ادا کر کے معاہدہ تجدید کروائیں گی۔ 175 کروڑ اور 185 کروڑ ایک سال کی فیس ہے۔ نیلامی سے پی سی بی کو 36 ارب روپے ملیں گے، نیلامی میں چار سے پانچ کمپنیاں امریکہ سے آئی تھیں یہ رقم پاکستان میں سپورٹس کی مد میں خرچ ہوگی، کامیاب بڈرز میں ایک کمپنی امریکہ دوسری آسٹریلیا سے ہے۔ نیلامی میں موجود افراد کو یقین دلاتا ہوں ابھی بہت مواقع ہیں، ملک کا جو نقشہ ہمارے ذہنوں میں بنا ہوا ہے پاکستان کو وہاں تک لے کر جائیں گے۔ پی سی بی اور تمام پی ایس ایل ممبران کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ کامیابی پاکستان اور پی سی بی کی کامیابی ہے، میں ٹیم خریدنے والے ایف کے ایس گروپ کے فواد سرور اور او زی گروپ کے حمزہ مجید کو مبارکباد دیتا ہوں، میں حیدرآباد اور سیالکوٹ کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ پی ایس ایل کیلئے تاریخی لمحہ ہے۔ پی ایس ایل صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں ہے یہ لیگ ہمیں بہت عزیز ہے۔ ہمارے جذبات پی ایس ایل سے وابستہ ہیں، یہ کرکٹ سے پیار کرنے والوں کی جیت ہے۔ نئی فرنچائز کے مالکان نے پی سی بی پہ اعتماد کا اظہار کیا ہے اس کیلئے مشکور ہیں۔ یہ کامیابی پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے جن لوگوں نے اس عمل میں حصہ لیا ان کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ اعتماد پاکستان پہ اعتماد ہے۔ کرکٹ سے لگاؤ اور پاکستان سے محبت کا اظہار ہے، ہم سب مل کر اس ملک کو وہاں تک لے کر جائیں گے جو ہم نے ذہن میں خاکہ بنا رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔